ضدی اور مغرور ٹرمپ اپنی شکست کا حیلہ دھاندلی کو بنارہے ہیں

0

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو کاٹوں سے بھر دیا ہے اگر صدر منتخب ہوکر بائیڈن نے امریکہ کیلئے خطرات کم نہیں کئے تو وہ امریکہ کے ممکنہ گورباجوف بن جائیں صدر ٹرمپ کے اقدامات نے ریاض کو کمزور کردیا ہے اب وہ عربوں کی قیادت کے قابل نہیں رہا۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضدی اور مغرور شخص ہیں اور اندرونی طور پر نسلی بالادستی کا بھی شکار ہیں اور امریکہ فرسٹ کے نعرے کے پیچھے ٹرمپ کی نسلی بالادستی کے وجود کا ثبوت ملتا ہے، امریکی عوام کی جانب سے مسترد کئے جانے کے بعد اب وہ مقدمات کا سہارا لیکر امریکی عوام سے بدلہ لت رہے ہیں، اُن کی شکست دیوار پر لکھی ہوئی نظر آرہی ہے، صدر ٹرمپ نے ابتدا سے ہی نفرتوں کی سوداگری کی اور ملک کو کارروباری انداز سے چلانے کی کوشش کی، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کارروبار آمرانہ انداز میں چلایا جاتا ہے جہاں ایک بوس ہوتا ہے جو تمام فیصلوں کو کرنے کا مختار ہوتا ہے حکومت اس انداز میں چلائی جائے تو ایک سوچ کے حامل افراد کا بھی ساتھ چلنا مشکل ہوجاتا ہے، اسی لئے دیکھا گیا کہ صدر ٹرمپ کی اپنے تمام قریبی مشاورین کیساتھ نہیں بنی، صدر ٹرمپ کا دور امریکی تاریخ میں جھوٹ اور نفرتوں کی مثال رہے گا، امریکی صدر بدترین آمریت کیساتھ دنیا سے تعلقات رکھنا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ملک سے امریکہ کے تعلقات بہتر بنانے کی اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ ایران کے معاملہ میں تو امریکی طاقت کے خوف کو مٹی میں ملادیا، جب قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو اعلانیہ نشانہ بنایا اور امریکہ کیلئے جوابی کارروائی کا راستہ بھی مسدود کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح ایران کے ہاتھوں اپنے ملک کو رسوا کیا اسکی ایک مثال شمالی کوریا ہے، ٹرمپ نے شمالی کوریا کی قیادت کیساتھ اس طرح ڈیل کرنے کی کوشش کی جسطرح وہ کارروباری ڈیل کرتے رہے ہیں، حکومت کاروبار چلانے کی مانبد نہیں امریکیوں کے تعصب نے ٹرمپ کو صدر تو بنادیا مگر ٹرمپ سعودی عرب سے پیسہ نکلوانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکے، یمن کی جنگ میں امریکہ کے مقابلے میں ایران کا پڑلہ بھاری ہے، شام سے امریکہ تیل چوری کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرسکا بلکہ اسّی فیصد شامی علاقے دارالحکومت کے کنٹرول میں ہے اور اب شام اپنے مقبوضہ علاقے جولان اسرائیل سے واپس لینے کی منصوبہ بندی کررہا ہے، اگر صدر بشار الاسد یہ مشکل کام کرسکے تو عرب قیادت ریاض سے منتقل ہوکر اسکا مرکز شام بن جائے گا، صدر ٹرمپ کے اقدامات نے ریاض کو کمزور کردیا ہے اب وہ عربوں کی قیادت کے قابل ہی نہیں رہا ہے، اس زاوئیہ سے دیکھا جائے تو امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے نکال باہر کرنے کیلئے روس اور چین کی کوششیں بارآور ثابت ہورہی ہیں، چین کیساتھ ٹرمپ نے تجارتی لڑائی شروع کی اور اِن کے غرور نے چین کو وہ سب کچھ کرنے پر مجبور کیا جو وہ آئندہ دس سالوں میں کرنا چاہتا تھا تاکہ امریکی جیسی طاقت زوال پذیر ہوکر دنیا کیلئے خطرہ نہ بن جائے، اس وقت کورونا وائرس کے دور میں چین کی تجارت 22 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، ٹرمپ نے تو پہلے ہی وائٹ ہاؤس کو کاٹوں سے بھر دیا ہے، اِن حالات میں میں اگر جو بائیڈن صدر بنتے ہیں تو اُنکے لئے میدان ہموار نہیں تاہم یہ وہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ امریکہ کیلئے کیا کرتے ہیں لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ بائیڈن نے امریکہ کیلئے خطرات کم نہیں کئے تو وہ امریکہ کے ممکنہ گورباجوف بن جائیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply