ٹرمپ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن منظر سے کیوں غائب ہیں ؟

0

ٹرمپ دنیا بھر میں امریکی جنگوں کو ختم کرنے کے نعرے کیساتھ انتخابات میں کامیاب ہوئے انکا خیال تھا کہ امریکا کی جنگوں سے خراب حالات مزید خراب ہوئے ہیں اس سے بدامنی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردی پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے۔۔۔

واشگٹن (میزان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن آجکل بدترین وقت گزار رہے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ میں این ایس اے کا عہد حاصل کرکے جان بولٹن بہت خوش تھے کہ وہ اب اپنے سارے ارمان پورے کر لیں گے تاہم صدر ٹرمپ نے ایک ساتھ ایران، وینیزویلا اور کوریا سمیت کئی محاذوں پر امریکا کو جنگ کی جانب لے جانے کا ایجنڈا رکھنے والے بولٹن کو منظر سے ہٹا دیا گیا ہے، امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ جان بولٹن طالبان سے امریکا کے مذاکرات سمیت متعدد مسائل پر پوری ٹرمپ انتظامیہ سے الگ موقف رکھتے ہیں بلکہ وہ طالبان سے امریکا کے ممکنہ معاہدے کے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں، یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 2016ء میں ٹرمپ، امریکا کی جنگوں کو ختم کرنے کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے، ان کا خیال تھا کہ امریکا کی جنگوں سے خراب حالات مزید خراب ہوئے ہیں اور اس سے بدامنی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردی پوری دنیا میں بڑھ رہی ہے، ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اقتصادی نظریہ لے کر پہنچے تھے اور ان کی نظر اس بات پر مرکوز تھی کہ امریکا کیلئے اقتصادی مواقع پیدا کئے جائیں، تاہم اس درمیاں جان بولٹن جیسے امریکی حکام کیلئے خود کو مطمئن کر پانا سخت ہے کیونکہ ان کی فکر یہی ہے کہ دنیا پر حکومت کرنا، امریکا کا حق ہے اور یہ حق جنگ کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، امریکی حکومتی حلقے میں دو نظریات کے درمیان شدید جنگ ہے اور اس میں جنگ پسند نظریات کو چیلنجوں کا سامنا ہے کیونکہ دنیا بدل گئی ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ امریکا کے جنگ پسند حکام کب اپنی فکر اور اپنی فطرت بدلتے ہیں؟ بولٹن کیلئے بھی یہی مناسب ہے کہ آنکھ کھول کر حالات کا جائزہ لیں، بولٹن جیسے مشران کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی سفاتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا تاکہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے، اِن جیسے دیگر معاملات اور چین کی بڑھتی ہوئی معیشت سے تصادم کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply