شیعہ کا نماز جنازہ پڑھنے والے تجدید نکاح کرائیں فتویٰ دینے والا آزاد ؟

0

چنیوٹ کا گاؤں چک نمبر 136 کی مقامی مسجد کے امام میاں خالد بشیر نے اعلان کیا کہ گاؤں میں اہل تشیع خاتون نمازِ جنازہ میں شرکت کرنیوالے افراد مسلمان نہیں رہے فتویٰ دینے والا اب بھی آزاد ہے ۔۔۔۔۔۔

لاہور (میزان نیوز) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے ایک گاؤں کے مکین آج کل اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہ اب وہ مسلمان ہیں یا نہیں، اور کیا ان کا نکاح باقی رہے ہیں کہ نہیں، گاؤں میں یہ تمام کنفیوژن پھیلانے کے ذمہ دار مبینہ طور پر اسی گاؤں کے پیش نماز مسجد ہیں جو گاؤں کے لوگوں کا دوسری بار نکاح پڑھوانے کے بعد اب تیسری بار پڑھوانا چاہتے ہیں، پاکستان میں مذہب اور عقائد کے نام پر کسی کو بھی استعمال کرنا کس قدر آسان ہے، اس کی ایک مثال چنیوٹ کا گاؤں چک نمبر 136 ہے، اس علاقے کے مکینوں کے مطابق مقامی مسجد کے امام میاں خالد بشیر نے دس روز پہلے اعلان کیا کہ گاؤں میں اہل تشیع کے مسلک سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والے افراد اب مسلمان نہیں رہے، اب انھیں نئے سِرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا پڑے گا اور پھر وہ ان کے دوبارہ نکاح پڑھوائیں گے، گاؤں کے رہائشی قاسم علی تصور نے میڈیا کو بتایا کہ چند روز پہلے گاؤں کے پیش نماز مسجد میاں خالد بشیر نے ان کی بھانجی کی نمازِ جنازہ پڑھوانے سے اس لئے انکار کیا کہ ان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا جس کے بعد قریبی گاؤں کے امام مسجد کو بلایا گیا، تاہم میاں خالد نے اعلان کیا کہ اس نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والے تمام لوگ اب مسلمان نہیں رہے اور ان کا دوبارہ نکاح ہوگا، قاسم علی کے مطابق امام مسجد میاں خالد اس سلسلے میں ایک فتویٰ بھی لے کر آئے جس کے بعد علاقے کے لوگوں نے ان کی بات مان لی، قاسم علی تصور کہتے ہیں کہ لوگوں نے پیش نماز میاں خالد سے پوچھا کہ اس نئے نکاح کی رجسٹریشن کیسے ہوگی تو انھوں نے بتایا کہ نکاح کی رجسٹریشن پہلے ہوچکی ہے اور اب دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم اب علاقے کے لوگوں کے مطابق میاں خالد کہتے ہیں کہ چونکہ عدت پوری نہیں ہوئی، اس لئے دوسرا نکاح بھی مکروہ ہے، اور وہ عدت کی تکمیل کے بعد پھر نکاح کروائیں گے، میاں خالد بشیر میڈیا کی آمد کی خبر سننے کے بعد گاؤں میں ملے ہی نہیں، دوسری جانب گاؤں کے رہائشی قاسم علی تصور کی بھانجی کی نماز جنازہ پڑھوانے والے چک نمبر 137 کے امام مسجد سید کاشف عمران شاہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ نماز جنازہ پڑھا اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ یہ جو مولانا میاں خالد بشیر نے کہا ہے کہ نکاح ٹوٹ گیا ہے۔رہائشیاور دوبارہ نکاح کروا رہے ہیں اس طرح سے نکاح نہیں ٹوٹتا، واضح رہے کہ ملک میں قومی ایکشن پلان میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے، لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کو روکنے اور نفرت پر مبنی مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 153 اے اور بی کے تحت اگر کوئی شخص اپنے زبان و بیان سے یا کسی حرکت سے عدم برداشت، دشمنی، مختلف مذاہب اور نسلوں کے درمیان نفرت کو ہوا دے یا ان کی عبادت گاہ، رہائش، کمیونٹی کو زبان یا کسی بھی دوسرے طریقے سے نقصان پہنچائے تو وہ قابلِ سزا جرم کا مرتکب قرار پائے گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply