شیعہ افغان قوم کا اہم حصہ ہیں انہیں بھائی تسلیم کرتےہیں،طالبان

0

طالبان ترجمان کے مطابق امریکی افواج کی افغانستان سے واپسی ہی مسئلے کا واحد حل ہے اور ہم پر یہ بات اچھی طرح سے واضح ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کو نظرانداز کرتا رہا ہے وہ اپنے عہد کو بھی بدلتا ہے ۔۔۔۔۔۔

کابل (میزان نیوز) طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شیعہ مسلمان افغانی قوم کا اہم حصہ ہیں اور ہم انہیں بھائی تسلیم کرتے ہیں جبکہ ایران کو ہم افغان قوم کا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، ایران کی نیم سرکاری نیوز سائٹ شفقنا نے نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نیوز ایجنسی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جدوجہد اس وقت تک ترک نہیں کریں گے، جب تک امریکی ہماری سرزمین پر موجود ہے، شیعہ مسلمان افغانی قوم کا اہم حصہ ہیں اور ہم انہیں بھائی تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایران کو ہم افغان قوم کا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور ہم ایرانی قوم اور حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہماری طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی اور یہ پالیسی دیگر پڑوسی ممالک کیلئے بھی ہے، ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک قیادت اور لائحہ عمل ہے، جس کے ذریعے ہم بہت سے پڑوسی اور دوست ممالک سے رابطے میں ہیں، بالکل اسی طرح ہم ایران کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور اس کے ساتھ ہم اپنے تعلقات کو بہتر کررہے ہیں، جو کہ ہمارے لئے بہت ضروری ہے، ترجمان افغان طالبان نے مزید کہا کہ افغان عوام پر امریکی ڈرون حملوں اور افغان قومی وسائل کی لوٹ مار پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، افغانستان کے عوام کسی بھی جبر و تسلط کو قبول نہیں کریں گے، امریکی افواج کی افغانستان سے واپسی ہی مسئلے کا واحد حل ہے اور ہم پر یہ بات اچھی طرح سے واضح ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کو نظرانداز کرتا رہا ہے اور اپنے عہد کو بھی بدلتا رہا ہے، اگر امن مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور امریکہ نے اپنی افواج کو افغانستان سے نہ نکالا تو اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہم انہیں طاقت  کے ذریعے افغانستان سے باہر نکالیں گے، طالبان ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے عوام داعش کو ایک مسئلہ سمجھتے ہیں، داعش کسی بھی اسلامی قانون کو نہیں مانتی اور ان کی جڑیں اسلام اور شریعت سے نہیں ملتیں۔   

Share.

About Author

Leave A Reply