شہبازشریف کی میگا کرپشن 22 ارب روپے کی منی لانڈنگ پکڑی گئی

0

شہزاد اکبر کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی اور بینکنگ نظام پر کڑی نظر رکھنے کیلئے بنائے گئے قوانین کی شدید مخالفت کی وجہ بھی سمجھ آگئی کیونکہ ان دنوں ممکن تھا کہ بینک کے ساتھ ایک مرے ہوئے شخص کا بھی اکاؤنٹ چلا لیں۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ملازمین کی مدد سے 22 ارب کی منی لانڈرنگ کی اور یہ پیسہ ان کے کاروبار کا نہیں تھا، شہزاد اکبر نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب شوگر ملز کی متعلقہ چیزوں کو دیکھا جانا شروع کیا تو ابھی تو ایک دو شوگر ملز کی چیزیں دیکھی گئی ہیں تو بڑا دھچکا لگانے والی چیزیں سامنے آئی ہیں، دو شوگر ملز العریبہ اور رمضان شوگر ملز اور ان کی بھی محض 10 سالوں پر محیط چیزوں کا جائزہ لیا گیا تو ان دو شوگر ملز کے کم آمدن والے ملازمین ان کے ناموں پر بے نامی اکاؤنٹس ہیں اور ان اکاؤنٹس سے 22 ارب روپے سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ان تمام چیزوں کے ثبوت موجود ہیں اور 12 کم تنخواہ دار ملازمین کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے گئے اور اس میں 15 ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی، 7 ارب روپے کچھ اور ملازمین اور بے نامی لوگوں کے نام پر جعلی کمپنیاں بنائیں گئیں اور اگر میں ان کی تفصیل میں جاؤں تو یہ ڈبل فیک کمپنیاں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ رمضان شوگر مل کے کلرک غلام شکور کے اکاؤنٹ میں 2011 سے 2014 تک 1.57ارب روپے جمع کرائے، رمضان شوگر ملز کے اکاؤنٹس کلرک خضر حیات کے اکاؤنٹ میں 2010 سے 2014 تک 1.42 ارب روپے جمع کرائے گئے، رمضان شوگر ملز کے کلرک اقرار حسین کے اکاؤنٹ میں 2012 سے 2015 تک 1.18ارب روپے جمع کرائے گئے، انہوں نے مزید کہا کہ اسی شوگر مل کے ایک اور کلرک محمد انور کے اکاؤنٹ میں 2011 سے 2015 تک 88 کروڑ روپے جمع کرائے گئے، ان کے سیلز منیجر توقیر الدین اسلم ان کے اکاؤنٹ میں 56 کروڑ روپے جمع کرائے گئے، شریف گروپ کے ڈیٹا اینٹری آپریٹر تنویر الحق کے اکاؤنٹ میں 2012 سے 2013 تک 51 کروڑ روپے جمع کرائے، معاون خصوصی نے بتایا کہ رمضان شوگر مل کے ایک اور اکاؤنٹ کلرک کاشف مجید کے اکاؤنٹ میں 46کروڑ روپے جمع کرائے گئے اور رمضان شوگر مل کے چپڑاسی گلزار احمد خان اس کے اکاؤنٹ میں 2012 سے 2017 تک 42 کروڑ روپے جمع کرائے اور یہ اس لئے دلچسپ ہے کیونکہ یہ ناصرف ان کی مل میں چپڑاسی تھا بلکہ 2015 میں فوت بھی ہوگیا تھا لیکن اس کے فوت ہونے کے باوجود یہ اکاؤنٹ چلایا جاتا رہا، اس میں پیسے جمع ہوتے رہے، نکلوائے جاتے رہے، شہزاد اکبر کے مطابق اسی کے ساتھ یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی اور بینکنگ نظام پر کڑی نظر رکھنے کیلئے بنائے گئے قوانین کی کڑی مخالفت کیوں کی گئی کیونکہ ان دنوں ممکن تھا کہ بینک کے ساتھ ایک مرے ہوئے شخص کا بھی اکاؤنٹ چلا لیں، شہزاد اکبر نے کہا کہ دونوں ہی کاموں میں طریقہ واردات ایک جیسا تھا جس کے تحت یہ ان کے نام کے اکاؤنٹ کھول کر ان سے چیک بک لے لیتے تھے اور یہی اسے چلاتے تھے

Share.

About Author

Leave A Reply