شمالی کوریا کی اہم دفاعی کامیابی امریکی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق

0

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ کے مطابق مستقبل میں امریکہ شمالی کوریا پر پابندیاں ہٹانے مین وقت لے گا ویسے ویسے یہ شمالی کوریا کی قوت کے سامنے خود کو دبتا محسوس کرے گا جو اندازوں سے زیادہ تیزی سے طاقتور ہوتا جارہا ہے۔۔۔

بیانیانگ (میزان نیوز) شمالی کوریا اپنا ایک نیا بیلسٹک میزائل منظر عام پر لایا ہے جس کا بڑا سائز دیکھ کر عالمی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ماہرین بھی حیران ہوگئے ہیں، دفاعی امور کی ماہر ملیسا ہینم کے مطابق شمالی کوریا کے حکام نے اپنا اب تک کا سب سے بڑا انٹر کانٹیننٹل بیلسٹک میزائل متعارف کرایا، ہواسونگ 14 کو 2017 میں دو مرتبہ ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ یہ 10 ہزار کلومیٹر دور تک جاسکتا ہے اور تقریباً پورے مغربی یورپ تک پہنچ سکتا ہے اور تقریباً نصف امریکہ میں ایک جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ہواسونگ 15 کو بھی 2017 میں ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ یہ 13 ہزار کلومیٹر دور تک جا سکتا ہے اور امریکہ میں کہیں بھی ایک جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن تاحال اس نئے آئی سی بی ایم کو ٹیسٹ نہیں کیا گیا، یہ میزائل حملوں کے خلاف امریکی دفائی نظام کے لیے ایک دھچکا ہوگا کیونکہ انھیں ہر میزائل حملے کو ہوا میں روکنے کے لیے انٹرسیپٹر لانچ کرنا پڑے گا، ترقی یافتہ مملک کے پاس ایسے جدید میزائل ہوتے ہیں جو ایک وقت میں کئی حملے کرسکتے ہیں اور شمالی کوریا بھی یہی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان ہتھیاروں کو ایم آئی آر وی کہتے ہیں یہ مائع ایندھن سے چلنے والا میزائل ہے لیکن اس کی لمبائی اور چوڑائی ہواسونگ 15 سے زیادہ ہے، شمالی کوریا نے اپنا یہ نیا آئی سی بی ایم بڑی محنت سے بنایا ہے اور یہ دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ اس ریاست، اس کے رہنما اور اس کے عوام کی تکنیکی صلاحیت کو ہرگز کم نہ سمجھا جائے، یکم جنوری 2020 کو کِم نے نئے سال کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا ہتھیاروں کا ایک جدید نظام بنا رہا ہے جو صرف ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہے، کم جونگ ان نے کہا تھا کہ مستقبل میں جیسے جیسے امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے میں وقت لے گا یا ہچکچائے گا، ویسے ویسے یہ شمالی کوریا کی قوت کے سامنے خود کو دبتا محسوس کرے گا، جو اندازوں سے زیادہ تیزی سے طاقتور ہوتا جارہا ہے اور امریکہ اسی تعطل کی گہرائی میں گرتا چلا جائے گا۔ یہ آئی سی بی ایم نظام کِم کا وہ سٹریٹیجک ہتھیار ہے جس کا انھوں نے عہد کیا تھا۔ اس کا ہدف امریکہ ہے اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں پہلے سے طے شدہ نتیجے کے طور پر پیش کردیا گیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply