شدت پسندوں نےپولیس اور رینجرز کوساتھ ملالیا،تحقیقات شروع

0

متعلقہ علاقےکےپولیس اہلکار اہم شخصیات اور سکیورٹی فورسز کےاہلکاروں کی آمدورفت اور روٹس سے متعلق معلومات فراہم کرتے رہے

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان میں سکیورٹی اداروں کے ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیس سے زائد اہلکاروں سے شدت پسندوں کے ساتھ مبینہ رابطوں کے الزام میں پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ ان افراد سے تفتیش دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں گرفتار ہونےوالےافراد سےتحقیقات کے بعد شروع کی گئی ہے۔ ذرائع کےمطابق تفتیش کےدوران جن پولیس اہلکاروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں کانسٹیبل رینک سے لیکر سب انسپکٹر رینک کے افسران شامل ہیں۔ ان اہلکاروں میں اکثریت کا تعلق پولیس کے محکمے سے ہے جبکہ چند ایک کا تعلق رینجرز سے بھی بتایا جاتا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔ جن ملزمان سے جیل کے اندر حفیہ اداروں کی طرف سے پوچھ گچھ کی گئی ہے وہ ان دنوں پشاور اور کوئٹہ کی مرکزی جیلوں کے علاوہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور بہاولپور کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث سب سے زیادہ افراد صوبہ پنجاب کی بہاولپور جیل میں قید ہیں۔ یہ جیل پنجاب کی محفوظ ترین جیلوں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے شدت پسندی کے مقدمات میں سزا پانے والے مجرموں کو اس جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔

فوج کے ایک خفیہ ادارے کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران سکیورٹی فورسز اُس کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حملوں کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد سے تفتیش کا عمل دوبارہ اُس وقت شروع کیا جب گُزشتہ چند ماہ کے دوران صوبہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں فوجی دستوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور پر حملوں میں شدت آ گئی تھی۔

گرفتار ہونے والے ان شدت پسندوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف اوقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے بالخصوص متعلقہ علاقے کی پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ تعلقات رہے ہیں جن سے وہ شہر میں اہم شخصیات اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی آمد و رفت اور مختلف روٹس سے متعلق بھی معلومات حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اہم عہدوں پر فائز سرکاری افسران کی نقل وحرکت سے متعلق بھی معلومات حاصل کرتے رہے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply