شام میں کردوں خلاف ترک فوج کی پیشقدمی، امریکی چوکی زد میں آ گئی

0

شام میں کردوں کے خلاف ترکی کے آپریشن پر عالمی سطح پر تنقید سامنے آنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے پاکستان کی جانب سے پوری حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) شام ميں علیحدگی پسند کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے ترک افواج کی پيش قدمی جاری ہے تاہم اس دوران ایک امریکی فوج کی چوکی بھی زد میں آگئی، بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام ميں کردوں کے خلاف ترک فوجی کی کارروائی کے تیسرے روز بھی گھمسان کی جھڑپ جارہی رہی، جس کے دوران امریکی فوج کی ایک چوکی زد میں آگئی تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، شام میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ترک فوج کی گولہ باری کی زد میں امریکی فوج کی ایک چوکی بھی آگئی تاہم گولہ باری کے نتیجے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پینٹاگون کے مطابق اس واقعے پر ترک فوج کو متنبہ بھی کیا گیا ہے، شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کے آپریشن پر عالمی سطح پر تنقید سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے پوری حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم اور ترک صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان، ترکی کی دہشت گردی سے متعلق تشویش کو پوری طرح سے سمجھتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانیں ضائع کرنے اور دہائیوں سے 30 لاکھ پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانے والے ملک ہونے کے ناطے پاکستان، ترکی کو درپیش خطرات اور چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ ترکی کی سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے، خطے میں امن و استحکام لانے کیلئے کوششیں کامیاب ہوں، ترک حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شام کے سرحدی علاقے میں اپنے ملک میں موجود شامی پناہ گزینوں کو آباد کرنا چاہتا ہے اور اس کیلئے ترکی نے رواں ہفتے شمالی شام میں کرد ٹھکانوں پر حملے کا آغاز کیا تھا جس پر کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انقرہ سے آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا ہے، ٹیلی فونک رابطے کے دوران وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اور پاکستان کی عوام رواں ماہ کے اختتام میں ترک صدر کا پاکستان میں استقبال کرنے کے منتظر ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply