شام میں ناکام امریکی پالیسی وینزویلا میں مادورو خلاف اپنائی گئی ہے

0

صدر مادورو کی حکومت کی مخالفت میں امریکا، برطانیہ،جرمنی، فرانس اور کینیڈا جیسے ممالک ہیں جو حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف پُر تشدد مظاہروں اور لوٹ مار کی حمایت کررہے ہیں ۔۔۔۔۔

کاراکاس (میزان نیوز) جنوبی امریکی ملک وینزویلا کی فوج نے ملکی صدر کو مکمل حمایت اور وفاداری کا یقین دلایا ہے، دوسری جانب اپوزیشن لیڈر کے حامی مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں، وینزویلا کی فوج کے مختلف علاقائی کمانڈروں نے صدر نکولاس مادورو کے ساتھ مکمل وفاداری کا اظہار کیا ہے، فوج کے سینیئر افسر میجر جنرل وکٹو پلاسیو نے واضح کیا ہے کہ فوج ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے کسی بھی اُس اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس کے پیچھے امریکہ ہو، امریکہ نے وینزویلا کیلئے اُسی پالیسی کو اپنایا ہے جو صدر بشارالاسد کو ہٹانے کیلئے اپنائی تھی، اُدھر ملکی پارلیمنٹ کے اسپیکر خوان گوائیڈو نے حکومت مخالف مظاہرین سے خطاب میں ایک مرتبہ پھر آزاد و شفاف انتخابات کا مطالبہ کرنے کے علاوہ جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، صدر مادورو چند ہزار مخالف مظاہرین اس وقت دارالحکومت کاراکس کی گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہیں، امریکی سرپرستی میں سیاسی انتشار پھیلانے والے اپوزیشن لیڈر لوگوں کو حکومت اور فوج کے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد لوٹ مار کرنے والے گروہوں کی حمایت کررہے ہیں، امریکہ نواز مبصر گروپ وینزویلین آبزرویٹری برائے سماجی تنازعات کے کوآرڈینیٹر مارکو پونس کے مطابق حکومت مخالف مظاہرین پر گولیاں چلانے سے کم از کم 16 افراد مارے گئے ہیں، پونس کے مطابق دارالحکومت کاراکس اور گرد و نواح میں مسلسل تین راتوں سے لوٹ مار کے ساتھ ساتھ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صدر مادورو سے درخواست کی ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں، اس وقت اس ملک میں صدر نکولاس مادورو اور پارلیمنٹ کے نوجوان اسپیکر خوان گوائیڈو کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شدت اختیار کرچکی ہے، انہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق یہ رسہ کشی کسی بڑے جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، صدر مادورو کی حکومت کی مخالفت میں ایک طرف امریکا اور کینیڈا جیسے ممالک ہیں، جو حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں، دوسری جانب روس، چین، ایران، کیوبا، ترکی اور کئی ملکوں نے صدر مادورو حکومت کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے، جرمن حکومت نے بھی نواجوان لیڈر خوان گوائیڈو کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے قابل اعتبار انتخابات کو ملکی استحکام کیلئے ضروری قرار دیا ہے، جرمن حکومت کے ترجمان اشٹیفان زائیبرٹ کے مطابق وینزویلا کے بہادر عوام اپنے ملک کے مستقبل کیلئے جد و جہد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply