شام میں ترکی کی مداخلت ختم ہونی چاہیئے،سعودی وزیرخارجہ کا مطالبہ

0

امریکہ کی جانب سے کرد علیحدگی پسندوں کو تنہا چھوڑے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا سامنا رہا اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں کرد شراکت داروں کو تنہا چھوڑنے کو دھوکا دینے کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ شام میں تنازع کا واحد حل صرف مذاکرات ہیں جبکہ وہاں ترکی کی مداخلت لازمی طور پر ختم ہونی چاہیئے، عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب پارلیمنٹ کے اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک عرب ریاستوں کے اتحاد، خود مختاری اور تحفظ کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ایسی کسی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا جس سے عرب ممالک کے استحکام کو خطرہ ہو، یمن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے یمنی عوام کی مدد کیلئے ساڑھے 14 ارب ڈالر دیئے ہیں، خیال رہے کہ سعودی عرب نے صنعا حکومت کے مقابلے میں ریاض میں نام نہاد جلاوطن یمنی حکومت تشکیل دی ہے او اس جلاوطن حکومت کی ملیشیا پر سعودی حکومت نے بھاری سرمایہ کاری کی تاہم منصور ہادی کی جلاوطن حکومت یمنی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہی ہے، سعودی وزیرخارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب میں یمنی فوج کے ہوائی اڈوں اور رہائشی علاقوں میں حملوں کی مذمت کرے، واضح رہے کہ حالیہ چند ماہ میں سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ترکی نے سعودی نژاد امریکی صحافی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے اور اس سلسلے میں بعض شواہد بھی عالمی ادارے کو فراہم کئے ہیں، ترک فورسز اور اسکی پراکسیز نے شمالی شام میں کرد فورسز کے خلاف گزشتہ سال اکتوبر میں کارروائی کا آغاز کیا تھا، انقرہ کا ماننا ہے کہ وائے پی جی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ذیلی دہشت گرد تنظیم ہے جو ترکی میں 1984 سے بغاوت کی کوششیں کر رہی ہے، ترکی کی جانب سے یہ فوجی کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے فوجی انخلا کے حکم کے بعد سامنے آئی تھی، امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام میں داعش کے خلاف جنگ میں کرد شراکت داروں کو دھوکا دینے کے مترادف قرار دیا گیا تھا، انقرہ کا کہنا تھا کہ وہ اس کے زیر کنٹرول خطے میں محفوظ زون قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں وہ ان تقریباً 36 لاکھ شامی مہاجرین کو آباد کرے گا جن کی وہ اپنی ملک میں میزبانی کر رہا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply