شام میں ترک آپریشن، روس کا امریکی فوج کے انخلاء پر سوالیہ نشان ؟

0

امریکہ نے شام میں امریکہ نواز پی کے کے اور وائی پی جی کے زیر قبضہ علاقے کیلئے لاجسٹک سپورٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے پینٹا گون مطابق شمالی شام میں ترک آپریشن کی نہ تو حمایت کی جائیگی اور نہ ہی تعاون فراہم کیا جائیگا۔۔۔

ماسکو (میزان نیوز) روس کے صدارتی محل کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے شمالی شام سے امریکی فوجی کے انخلا کو ایک سوالیہ نشان قرار دیا ہے، پیسکوف نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس بارے میں ہمیں مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمیں یہ معلوم ہے کہان کی تعداد کتنی ہے، پیسکوف نے کہا کہ اس سے پیشتر بھی امریکہ نے مختلف ممالک سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا کہا تھا مگر عمل درآمد نہیں ہوا لہذا ہم اس تازہ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، روسی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ صدر پوتین نے شمالی شام کے حوالے سے امریکی اور ترک صدور سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اُدھر پینٹا گون نے اعلان کیا ہے شمالی شام میں ترکی کے ممکنہ آپریشن کی نہ تو حمایت کی جائیگی اور نہ ہی تعاون فراہم کیا جائیگا، پینٹا گون کے ترجمان جوناتھن ہوف مان نے تحریری اعلان میں کہا ہے کہ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع بھی ترکی کے شمالی شام میں فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کرتی، یہی موقف امریکی مسلح افواج کا بھی ہے اور یہ اس آپریشن میں مداخلت نہیں کرے گی، دونوں ملکوں کے دفاعی امور کے حکام کے مابین مذاکرات میں علاقے کی سلامتی، کوآرڈینیشن اور باہمی تعاون کے ذریعے ممکن بنائے جانے کی وضاحت کرنے والے ہوف مان کا کہنا تھا کہ وزیر مارک ایسپر اور چیف آف جنرل سٹاف مارک میلے نے اپنے اپنے ترک ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ یکطرفہ اقدامات ترکی کیلئے خطرہ ہیں، ترکی دیگر یورپی ممالک کے ہمراہ امریکی قیادت کے آپریشنز میں تحویل میں لئے گئے داعش کے جنگجووں کا ذمہ دار ہوگا، پینٹا گون کی ترجمان لیفٹینٹ کارلا گلی سون نے انادولو ایجنسی کو بتایا ہے کہ ترکی کو متحدہ فضائی آپریشن مرکز کی جانب سے ایئر ٹاسک آرڈر سے خارج کردیا گیا ہے، ترکی کو نگرانی اور چھان بین ڈیٹا کی فراہمی روک دی گئی ہے، گلیسون نے بتایا کہ ایئر ٹاسک آرڈر سے خارج کیے جانے پر آپریشن والے علاقوں میں رابطے کے بغیر پرواز کرنا تقریباً ناممکن بن جاتا ہے، امریکہ نے شام میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم پی کے کے اور وائی پی جی کے زیر قبضہ علاقے کیلئے لاجسٹک سپورٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، عراق میں موجود امریکی فوج کی طرف سے بھیجا گیا 80 ٹرالروں پر مشتمل کانوائے رات 9 بجے کے قریب شام کے سیملکا سرحدی دروازے سے گزرا۔

Share.

About Author

Leave A Reply