شام سے امریکی فوج کی واپسی کا ٹرمپ فیصلہ دانشمندانہ ہے، ترکی

0

ترک صدر نے نیویارک ٹائمز میں لکھے اپنے مضمون میں امریکی صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے عمل کو بہت محتاط انداز اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیکر مکمل کرنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوگان نے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے صدر ٹرمپ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے انخلاء کے عمل میں اتحادیوں کو شامل کرنے کی تجویز دی ہے، ترک صدر طیب اردگان نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ شام سے امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ دانشمندانہ ہے، شام کی جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کی ذمہ داری دمشق پر عائد ہوتی ہے، شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے متعلق ترکی کے ردعمل کے کھل کر وضاحت کرتے ہوئے اپنے کالم میں امریکی صدر کو تجویز دی کہ امریکا کو شام سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے عمل کو بہت محتاط انداز اور سچے اتحادیوں کو اعتماد میں لیکر مکمل کرنا چاہیئے، صدر اردوگان نے مزید لکھا کہ انخلاء کے بعد امن کے استحکام کیلئے کردوں کے زیر تسلط علاقوں میں صرف ترکی ہی بہترین قیادت فراہم کرسکتی ہے جو داعش سمیت دیگر چھوٹے شدت پسند گروپوں کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، شام میں کرد جنگجو امریکی فوج کے اتحادی ہیں اور کردوں کے زیر تسلط علاقوں میں کردوں کو حکومتی فورسز اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف امریکا کی حمایت حاصل تھی جب کہ کردوں کو ترکی میں باغی تصور کیا جاتا ہے، واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کی ہدایت کی تھی جس کیلئے امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن چار روزہ دورے  پر اسرائیل کے بعد ترکی پہنچ رہے ہیں، واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوج کی واپسی کیساتھ ہی عراق میں امریکی فوج برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ عراقی پارلیمانی گروپ صدر ٹرمپ کے فیصلے خلاف مہم چلارہا ہے، شام میں روسی اور ایرانی فورسز کے علاوہ امریکہ سمیت بعض مغربی ملکوں اور ترک فوج کی موجودگی شامی حکومت کی مرضی کے خلاف ہے جوکہ شام کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، امریکہ کو شام میں فوج رکھنے کا بھاری خرچہ برداشت کرنا پڑ رہا تھا جبکہ سعودی عرب اور قطر نے بھی شام کیلئے امریکہ کو دی جانے والی فوجی امداد میں واضح کمی کردی تھی۔

Share.

About Author

Leave A Reply