شام: دو روز میں دوسرا اسرائیلی حملہ نشانہ فوجی تحقیقی مرکز تھا

0

اسرائیل کا نیا حملہ دہشت گرد گروہوں کا مورال بلند کرنے کی کوشش ہے جو کہ ملک کی فوج کے حملوں سے پریشان ہیں

دمشق (میزان نیوز) شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دمشق کے نواح میں واقع ایک israel attack in syriaفوجی تحقیقی مرکز کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے، یہ مرکز جبلِ قاسیون نامی علاقے میں واقع ہے اور وہاں سے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، یہی فوجی مرکز جنوری میں بھی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا تھا، اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے گزشتہ ہفتے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اسرائیل نے رواں برس جنوری میں شام میں فضائی حملہ کیا تھا، انھوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ جیسے اسلام پسند گروہوں کو ہتھیاروں کی منتقلی اسرائیل کیلئے ’سرخ لکیر‘ ہے اور جب اس لکیر کو عبور کیا گیا تو اسرائیل نے کارروائی کی تھی۔

دمشق سے انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ویڈیو میں شہر کے افق پر آگ کا بڑا گولہ اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے، ویڈیو کے مطابق اس میں دکھایا جانے والا دھماکا جمرایہ فوجی تحقیقی مرکز کے قریب ہوا، شام کے سرکاری ٹی وی نے حال ہی میں صدر شام کی افواج کی جانب سے باغیوں کےخلاف کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا نیا حملہ دہشت گرد گروہوں کا مورال بلند کرنے کی کوشش ہے جو کہ ملک کی فوج کے حملوں سے پریشان ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے ان دھماکوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے، اسرائیلی فوج کی ایک ترجمان نے رابطہ کرنے پر خبر رساں ادارے رائٹرز سے کہا کہ ہم اس قسم کی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتے، اس سے قبل اسرائیلی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی طیارے نے شامی حدود میں گاڑیوں کے ایک ایسے قافلے کو نشانہ بنایا جو میزائل لے جا رہا تھا، اسرائیلی اہلکار کے مطابق یہ ہتھیار مبینہ طور پر لبنان کی اسلام پسند تنظیم حزب اللہ کو بھیجے جارہے تھے، لبنان کے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ شام کے اصل دوست ابھی موجود ہیں جو اسے امریکہ، اسرائیل یا دہشت گردوں کے ہتھے نہیں چڑھنے دیں گے، شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں حکومتی افواج اور باغیوں کے مابین جھڑپیں کئی ماہ سے جاری ہیں اور تاحال کسی فریق کو برتری حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مارچ سنہ 2011ء سے شروع ہونے والی بغاوت میں اب تک 70,000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply