مالدیپ میں جنسی زیادتی کا شکار لڑکی کو ہی سو کوڑوں کی سزا

0

لڑکی کے اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے پر کوڑے مارنے کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا، سزا ظالمانہ اور غیر انسانی ہے

مالدیب (میزان نیوز) مالدیپ میں عدالت نے جنسی زیادتی کا شکار ایک پندرہ سالہ لڑکی کو شادی سے قبل جنسیkorey تعلقات استوار کرنے پر سو کوڑوں کی سزا سنائی ہے، استغاثہ کا کہنا ہے کہ لڑکی کو دی جانے والی سزا کا اس سے ہونے والی جنسی زیادتی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لڑکی پر شادی سے قبل جنسی تعلقات کا الزام اس وقت سامنے آیا تھا جب پولیس اس کے سوتیلے والد کے خلاف مذکورہ لڑکی سے جنسی زیادتی اور اس کے بچے کے قتل کے الزامات کی تحقیقات کر رہی تھی، حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سزا کو ’ظالمانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا ہے۔

مالدیپ کی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے سے متفق نہیں اور وہ متعلقہ قانون کی تبدیلی پر غور کرے گی، بچوں کی عدالت کی ترجمان زاعما نشید کا کہنا ہے کہ عدالت نے مذکورہ لڑکی کو بچوں کی نگہداشت کے مرکز میں آٹھ ماہ تک نظربند رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ترجمان نے اس لڑکی کو دی جانے والی سزا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ نے جانتے بوجھتے خلافِ قانون عمل سرانجام دیا تھا، حکام کے مطابق اس لڑکی کے اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد ہی کوڑے مارنے کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا، مالدیپ میں قانونی نظام سعودی عرب میں نافذ سلفی شریعہ اور انگلش کامن لاء سے اخذ شدہ ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply