سعودی سکیورٹی حکام کا علما و مفتیوں کے خلاف آپریشن، درجنوں گرفتار

0

اخوان المسلمون سعودی بادشاہت کو اسلام سے منحرف قرار دے چکی ہے جبکہ سعودی عرب میں نائٹ کلبز اور وہاں آزادی کیساتھ شراب نوشی کی اجازت کو اسکی ایک مثال قرار دے چکی ہے سعودی حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیدیا۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی عرب کے سکیورتی اور عدالتی حکام نے ایسے تمام علماء مفتیوں اور مذہبی شخصیات کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جو سعودی بادشاہ کے احکامات اور ریاض کی پالیسیوں کی مخالفت کررہے ہیں، ہیومن رائٹس کونسل میڈل ایسٹ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بعض مذہبی شخصیات موجودہ ولیعہد کی مبینہ اسلام مخالف سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کھلے عام کررہے ہیں، جس کے بعد اِن مذہبی شخصیات کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں ہیں اور درجنوں مذہبی شخصیات کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اس سے قبل خانہ کعبہ کی انتظامیہ کے بعض اہم افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا مگر انہیں سوال و جواب کے بعد رہا کردیا گیا، واضح رہے کہ سعودی عرب کی مذہبی امور کی وزارت نے اخوان المسلمین کے تعلق سے ریاض کی پالیسیوں کو فالو نہ کرنے والے تمام علماء اور مفتیوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی کئے جانے کے احکامات صادر کئے ہیں، سعودی عرب کی بادشاہت کے مخالف تنقید نگار نے جو عام طور سے مجتہد کے نام سے سعودی بادشاہت کے اقدامات کی خبریں فراہم کرتے ہیں، اپنی اُنھوں نے ااپنی رپورٹ میں سعودی حکام کی دستاويز بھی جاری کی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ موافقت نہ رکھنے والے علماء اور مفتیوں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے، اس دستاویز کے مطابق ایسے تمام ائمہ مساجد اور خطباء جو سعودی عرب کے مذہبی امور کی وزارت کا جاری کردہ خطبہ پڑھنے سے گریزاں ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کئے جانے کا حکم صادر کیا گیا ہے، سعودی مذہبی امور کی وزارت نے اپنے ایک سرکلر میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے، خیال رہے کہ حکمراں خاندان آل سعود کی پالیسیوں سے موافقت نہ رکھنے والے علماء اور مفتیوں کی تطہیر اور چھانٹی کا عمل 2017ء شہزادہ محمد بن سلمان کی ولی عہدی کے بعد شروع کیا گیا ہے، باخبر حلقوں کے مطابق اس وقت چار ہزار سے زیادہ علماء و مفتی اور مذہبی شخصیات آل سعود کی قید میں ہیں، اخوان المسلمون سعودی بادشاہت کو اسلام سے منحرف قرار دے چکی ہے جبکہ سعودی عرب میں نائٹ کلبز اور وہاں آزادی کیساتھ شراب نوشی کی اجازت کو اسکی ایک مثال قرار دے چکی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply