سعودی عرب کا یمن پرفضائی حملہ خواتین سمیت 23سے زائد عالم شہری شہید

0

سعودی عرب کے فوجی ذرائع نے فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 20 عام شہری شہید ہوئے ہیں جو غلطی سے ہوا ہے یہ کارروائی ایسے موقع پر سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد رواں ہفتے سعودی عرب کے دورے پر دارلحکومت ریاض پہنچ رہے ہیں ۔۔

صنعا (میزان نیوز) یمن میں سعودی عرب کی  فضائی کارروائی کے نتیجے میں 23 سے زائد یمنی شہری شہید ہوگئے، فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صبا نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ یمن کے جنوب مغربی شہر تیز کے علاقے میں ایک وین کو فضائی کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا، اس وین میں متعدد شہری سوار تھے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے کے نتیجے میں 23 شہری شہید ہوئے جن میں 6 بچے اور متعدد خواتین شامل ہیں جبکہ متعدد لاشیں مکمل طور پر جل چکی ہیں، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فضائی کارروائی مبینہ طور پر سعودی سربراہی میں قائم عرب ممالک کی اتحادی افواج نے کی تھی، دوسری جانب سعودی عرب کے فوجی ذرائع نے فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 20 شہری شہید ہوئے ہیں جو غلطی سے ہوا ہے، ذرائع کا کہنا تھا کہ یمن میں برسراقتدار حکومت کے حامیوں کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایک ٹرک تباہ ہوا، یمنی فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ مسافر خریداری کے بعد واپس آرہے تھے اور فضائی کارروائی میں متعدد لاشوں کے کئی ٹکرے ہوگئے، مذکورہ فضائی حملے کے حوالے سے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عرب اتحادی افواج نے اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا، خیال رہے کہ یہ کارروائی ایسے موقع پر سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد رواں ہفتے کو سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ رہے ہیں، واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے مذکورہ عرب فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں کو حملوں کیلئے انٹیلی جنس معلومات اور فضا میں ان طیاروں کو ریفیولنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہیں، اس کے علاوہ امریکا کی جانب سے اس اتحاد کو ہتھیار بھی فراہم کیے ہیں، یاد رہے کہ امریکی سیکریٹری دفاع جم ماٹس نے اپریل میں اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران اپنے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ امریکا مضبوط سعودی عرب دیکھنا چاہتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت یمن امن مذاکرات جلد از جلد بحال ہوجائیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply