سعودی عرب شیعہ علاقوں میں فوجی آپریشن 5 شہری شہید دو گرفتار

0

سعودی فوجیوں نے متعدد رہائشی مکانات کو مسمار کرنے کے بعد زرعی فصلوں کو بھی آگ لگا دی ہے سعودی سرکاری میڈیا اس فوجی آپریشن کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے جدید ہتھیاروں کیساتھ ملک کی شیعہ آبادی والے علاقے قطیف پر حملہ کرکے کم سے پانچ عام شہریوں کو شہید کردیا، جبکہ سعودی میڈیا اس فوجی آپریشن کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے، مشرقی سعودی عرب سے موصولہ خبروں کے مطابق ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس سعودی فوجیوں نے صوبہ الشرقیہ کی شیعہ آبادی والے علاقے القطیف کے الجش اور ام الحمام نامی آبادیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے، سعودی فوجیوں نے متعدد رہائشی مکانات کو مسمار کرنے کے بعد قریب زرعی زمین پر اگی فصلوں کو بھی آگ لگا دی ہے، سعودی فوجیوں کے حملے میں پانچ افراد کے شہید اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ ریاض نے دو افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کردی ہے، مشرقی سعودی عرب کا شیعہ آبادی والا شہر قطیف، سلمان بن عبدالعزیز کے اقتدار میں آنے اور خاص طور سے بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سے سعودی سکیورٹی اداروں کے حملوں کا مسلسل نشانہ بنا ہوا ہے، سعودی فوجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں اب تک اس علاقے کے درجنوں بے گناہ عام شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ سماجی اور سیاسی بے انصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں سینکڑوں افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے، اس کے علاوہ درجنوں افراد گزشتہ دو سالوں سے لاپتہ ہیں جنکے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہیں ولی عہد بن سلمان کے حکم پر قتل کردیا گیا ہے، سعودی عرب میں میڈیا کو آزادی حاصل نہیں ہے جبکہ سعودی عرب کی شیعہ آبادی والے علاقے میں عالمی میڈیا کو سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے، آل سعود نے شیعہ اکثریتی علاقوں پر 1921ء کے بعد قبضہ کرلیا تھا اور اِن علاقوں کو دیگر علاقوں کی طرح ترقی نہیں دی گئی جبکہ یہی وہ علاقے ہیں جہاں سے سعودی حکومت 55 فیصد خام تیل نکالتی ہے، مشرقی سعودی عرب میں سنہ دو ہزار گیارہ سے سیاسی اور مذہبی تعصبات اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی بنا پر آل سعود خاندان کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں، جنھیں ریاض کی بادشاہت جنگی آپریشنز کے ذریعے دباتی رہی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply