سعودی عرب سمیت کئی ممالک جلد اسرائیل کو تسلیم کرلیں، ڈونلڈ ٹرمپ

0

فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر عمار حجازی نے معاہدے پر دستخط کو ایک سوگ سے بھرپور دن قرار دیا ہے حجازی کے مطابق امن کا واحد راستہ فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ کا خاتمہ ہے اس کے بغیر خطے میں امن کا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔۔۔

واشنگٹن/دبئی(میزان نیوز) متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کردیئے، یہ ذلت آمیز تقریب امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی، صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب سمیت کئی ممالک جلد اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے جبکہ فلسطینی حکام نے معاہدے کی مذمت کی ہے، امریکی و عرب میڈیا کے مطابق ان ممالک کے درمیان معاہدہ ابراہیم کی دستخطی تقریب میں اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر دستخط وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یو اے ای کی جانب سے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کی جانب سے وزیر خارجہ عبدالطیف الزیان نے کیے، اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی عوام اب کو اب مزید اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اسرائیل سے نفرت کیلئے کسی شدت پسندی کا عذر پیش کرسکیں، اس خطے کی شاندار منزل کو روکنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد اب اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک کی تعداد چار ہوگئی ہے، قبل ازیں 1979ء میں مصر اور 1994ء میں اردن اسرائیل کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات قائم کرچکے ہیں، خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کا پانچویں اور چھٹے عرب ملک سے امن معاہدہ آخری مراحل میں ہے، جلد سعودی عرب سمیت کئی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے، دوسری جانب وزیرِاعظم اسرائیل بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ آخرکار مزید عرب ممالک کی شمولیت سے امن کا مشن وسیع ہوسکے گا، اس طرح عرب اسرائیل تنازعہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوکر رہ جائے گا، فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر عمار حجازی نے معاہدے پر دستخط کو ایک سوگ سے بھرپور دن قرار دیا ہے، حجازی نے مزید کہا کہ امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرکے فلسطینیوں کو حقِ خود ارادیت دے، اس کے بغیر خطے میں امن کا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا، متحدہ عرب امارات وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور گرگاش نے کہا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے ملکی فیصلے نے نفسیاتی رکاوٹوں کو دور کردیا ہے اُن کا اشارہ یواےای میں عوام کا سنگین ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply