سعودی عرب بائیڈن انتظامیہ سے روایتی تعلقات کا خواہشمند ہے

0

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل السعود نے امریکہ کی نئی بائیڈن انتظامیہ کو باور کرایا یمن جنگ سے متعلق ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں یمن حکومت کی مربی حوثی ملیشیا کو اس بات کا ادراک کرے یمن کے بہترین مفاد میں جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ریاض ایران کے ساتھ تبادلہ خیال کیلئے تیار ہے مگر ساتھ ہی اُنھوں نے کہا ہے کہ ایران کشیدگی ختم کرنے کیلئے زمین سازی کرنے کو تیار نہیں ہے، سعودی عرب کے ممتاز عالم دین آیت اللہ باقر النمر کی پھانسی پر تہران میں سعودی سفارت خانے کے باہر مشتعل احتجاج کے بعد سعودی عرب نے جنوری 2016 میں ایران سے تعلقات منقطع کرکئے تھے، اُس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے خلاف معاندانہ پالیسی پر عمل شروع کردیا جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی سے ہم آھنگ تھی، العربیہ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب بائیڈن انتظامیہ سے روایتی تعلقات کا خواہشمند ہے، اُنھوں نے الزام لگایا کہ تہران ریاض کے ساتھ بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہے، اُنھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن کیلئے ہمارا ہاتھ پھیلا ہوا ہے لیکن تہران معاہدوں پر اپنے آپ کو پابند نہیں کرتا ہے، یہ ریمارکس دو روز قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے قطری ہم منصب کے اس بیان کے خیرمقدم کے بعد سامنے آیا، قطری وزیر خارجہ نے خلیج فارس کے عرب ممالک کو ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کا مشورہ دیا ہے، تہران ایک طویل عرصے سے مشرق وسطی کے ملکوں پر مشتمل مضبوط بلاک کے قیام کیلئے ہمسایہ ملکوں کیساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے، شہزادہ فیصل نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ یمن سے متعلق ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں، البتہ ان کا کہنا ہے کہ یمن حکومت کی مربی حوثی ملیشیا کو اس بات کا ادراک کرے یمن کے بہترین مفاد میں جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔

Share.

About Author

Leave A Reply