سعودی عدلیہ انصاف کی دشمن، خاشقجی قاتلوں کی سزائے موت ختم

0

اقوام متحدہ کے مطابق قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہیں کہ قتل میں اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیدار بشمول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس میں انفرادی طور پر ذمہ دار ہیں جبکہ ان کے دو سابق ساتھیوں پر ترکی میں غیر حاضری میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی عرب کی ایک عدالت نے سنہ 2018 میں قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پائے گئے پانچ افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق استغاثہ کا کہنا تھا کہ صحافی کے خاندان کی جانب سے انھیں معاف کیے جانے کے بعد انھیں 20 سال قید کی سزا دے دی گئی ہے مگر ان کی منگیتر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے انصاف کا مذاق بنا دیا ہے، سعودی بادشاہت کے نمایاں ناقد جمال خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر سعودی خفیہ ایجنٹوں کی ایک ٹیم نے قتل کردیا تھا، سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ خاشقجی بلا اجازت کی گئی ایک کارروائی میں ہلاک ہوئے اور اگلے سال سعودی استغاثہ نے 11 بے نام افراد پر مقدمہ چلانا شروع کیا، تاہم اقوامِ متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنیس کیلامارڈ نے اس مقدمے کو اس وقت انصاف کا دشمن قرار دے کر مسترد کردیا تھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی تھیں کہ خاشقجی ایک سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی کے تحت قتل کیے گئے جس کیلئے سعودی ریاست ذمہ دار ہے، کیلامارڈ نے کہا کہ اس حوالے سے قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہیں کہ اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیدار بشمول سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس میں انفرادی طور پر ذمہ دار ہیں، تاہم محمد بن سلمان نے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا جبکہ ان کے دو سابق ساتھیوں پر ترکی میں غیر حاضری میں مقدمہ چلایا جارہا ہے، ان افراد پر خاشقجی کے قتل پر اکسانے کا الزام ہے، ترکی کی جانب سے 18 دیگر افراد پر قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply