آل سعود حکومت اور اسرائیل تعلقات رائےعامہ ہموار کی جارہی ہے

0

سعودی حکومت کی سرپرستی میں بنائے گئے ڈراموں جسے رمضان میں نشر کیا جارہا ہے ایک نوجوان سعودی اداکار کہتا ہے کہ ہمارے اصل دشمن فلسطینی ہیں جو کئی دہائیوں سے مالی مدد ملنے کے باوجود دن رات سعودی عرب کی تذلیل کرتے ہیں۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ٹی وی چینل پر رمضان المبارک میں اسرائیل سے دوستی کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کی غرض سے نشر کیے جانے والے دو ڈراموں پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جہاں ان دونوں ڈراموں میں سعودی عرب کے اسرائیل سے بہتر تعلقات کو دکھایا گیا ہے، سعودی عرب سمیت اکثر عرب ممالک کے اسرائیل سے باضابطہ کوئی سفارتی تعلقات نہیں لیکن ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی ایران سے دشمنی کے تناظر میں باہمی تعلقات پر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہوتے جا رہے ہیں، رمضان میں سعودی ٹی وی چینلز پر سب سے زیادہ تعداد میں لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں اور اس ماہ میں خصوصاً ان ڈراموں کو نشر کرنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ سعودی عرب باضابطہ طور پر اسرائیل سے بہتر تعلقات کی جانب گامزن ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں شاہی خاندان پہلے ہی حتمی فیصلہ کر چکا ہے، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے قریبی تعلقات رکھنے والے ایک امریکی ربی مارک شنائر نے کہا کہ سعودی خطے میں اسرائیل کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہیں، دو سال قبل شہزادہ خالد بن سلمان نے مجھے کہا تھا کہ سعودی عرب جانتا ہے کہ 2030ء کے معاشی منصوبے کے مقاصد حاصل کرنے میں اسرائیل اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جب ولی عہد محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان سے گفتگو اور اس بات کی تصدیق کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا، ایگزٹ 7 نامی ڈرامے میں تیزی سے جدیدیت کی جانب گامزن سعودی عرب میں ایک متوسط گھرانے کی کہانی دکھائی گئی ہے اور ناظرین نے ڈرامے کے حؤالے سے پہلی مرتبہ اس وقت اعتراض اٹھایا جب اس میں ایک نوجوان اداکار کو آن لائن ویڈیو گیم کے ذریعے ایک اسرائیلی لڑکے سے دوستی کرتے ہوتے دکھایا گیا، ایک اور متنازع سین میں ایک نوجوان نے اسرائیل سے تعلقات استوار نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اصل دشمن فلسطینی ہیں جو کئی دہائیوں سے مالی مدد ملنے کے باوجود دن رات سعودی عرب کی تذلیل کرتے ہیں، اُم ہارون نامی ایک اور ڈرامے میں 1940 کی دہائی کے کویت میں ایک عرب آبادی کو دکھایا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر عوام نے اس ڈرامے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اسرائیل سے تعلقات بہتر بنانے کی سوچ کو فروغ دینا ہے، سعودی عرب اور اسرائیل کی یہ قربتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کا حصہ لگتی ہیں جس میں ٹرمپ کا اسرائیل کے حوالے سے جانبدار رویہ عیاں ہے البتہ ان کے اس منصوبے کو اکثر عرب ممالک مسترد کرچکے ہیں لیکن سعودی عرب کا رویہ قدرے مختلف نظر آتا ہے جس نے 2018 میں پہلی مرتبہ اسرائیل کے مسافر طیارے کو اپنی فضائی حدود میں داخلے کی اجازت دی تھی، یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے بھی منگل کو اسرائیل کے لیے پہلی مرتبہ پرواز کا اعلان کیا اور اتحاد ایئرویز کے لیے ذریعے فلسطینیوں کے لیے طبی سامان بھیجا گیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply