سعودی اور امارات کے ایران سے بڑھتے تعلقات پر اسرائیل پریشان

0

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خلیج فارس میں جہازوں کی آمد و رفت کی سکیورٹی کے بارے میں ایران سے خفیہ رابطے بڑھا دیئے ہیں سعودی ولیعہد بن سلمان پوری سنجیدگی کے ساتھ تہران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہے ہیں

تل ابیب (میزان نیوز) اسرائیلی ویب سائٹ دبکا نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کیساتھ اپنے خفیہ رابطے بڑھا دیئے ہیں اور سعودی ولیعہد بن سلمان پوری سنجیدگی کے ساتھ تہران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہے ہیں، دبکا نے اسرائیلی حکومت کے خفیہ شعبے کے نزدیکی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خلیج فارس میں جہازوں کی آمد و رفت کی سکیورٹی کے بارے میں ایران سے خفیہ رابطے بڑھا دیئے ہیں، ویب سائٹ اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھتی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اب اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے اہداف، ریاض اور ابوظہبی کے اہداف کے مطابق نہیں ہیں، کچھ خفیہ ذرائع نے متحدہ عرب امارات کے وفود کے حالیہ دورہ تہران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے ایرانی حکام سے ملاقات میں خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں سمندری جہازوں کی سکیورٹی کے مسئلے پر گفتگو کی، متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ویب میڈیا کو بتایا کہ اگر واشنگٹن، ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں کررہا ہے تو ہمیں خلیج فارس میں سمندری جہازوں کی سکیورٹی کیلئے امریکی اتحاد میں شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ان حالات میں دفاعی طاقت بہت ہی محدود ہو جائے گی، دبکا نے مزید کہا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان پوری سنجیدگی کے ساتھ ایران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہے ہیں، گزشتہ منگل کو متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کی سکیورٹی کے عہدیداروں پر مبنی وفود اور ایران کے سکیورٹی حکام کے درمیان اہم اجلاس ہوا تھا، اس اجلاس میں دونوں ممالک سمندری سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے آپسی تعاون پر متفق ہوئے، یہ اجلاس 2003ء کے بعد سے اس طرح کا پہلا اجلاس تھا، متحدہ عرب امارات کے اس وفود کے دورہ تہران کے بعد ابو ظہبی کے ولیعہد بن زائد کے سابق مشیر عبد الخالق نے کہا کہ جنگ یمن اب امارات کیلئے ختم ہوگئی ہے، ان کے اس بیان سے سعودی ایوانوں میں زلزلہ آگیا اور اس کی سمجھ میں آ گیا کہ وہ یمن کے دلدل میں تنہا بری طرح پھنس چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ایران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply