بھارت نے سرینگر میں عزاداری جلوسوں کو روکنے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا

0

سات محرم کو شیعہ مسلمانوں نے جلوس عزا برآمد کرنے کی کوشش کی لیکن بھارتی فوج نے عزاداروں کو جلوس کی صورت میں شہر میں نکلنے کی اجازت دینے سے انکار کیا جسکے بعد بھارتی فوج اور عزاداروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔۔۔

سرینگر (میزان نیوز) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں محرم کے ایک جلوس کے دوران شیعہ مسلم عزاداروں اور بھارتی سکیورٹی دستوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے بعد وادی کے کئی علاقوں میں اتوار آٹھ ستمبر کو ایک بار پھر کرفیو لگا دیا گیا ہے، جموں کشمیر کے پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم اور متنازعہ خطے کے بھارت کے زیر قبضہ حصے کے دارالحکومت سری نگر سے اتوار آٹھ ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق مقامی حکام کے علاوہ عینی شاہدین نے بھی تصدیق کی کہ کل ہفتہ سات ستمبر کی شام محرم کے ایک روایتی جلوس کے دوران بھارتی دستوں نے جب عزاداروں کو روکنے کی کوشش کی تو جلوس میں شریک شیعہ مسلمانوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئیں، ان جھڑپوں میں کم از کم 12 مقامی باشندے اور چھ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے، ان جھڑپوں کے دوران بھارتی فورسز نے شرکاء کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا، یہ کشیدگی اور تناؤ اس وقت پیدا ہوئے جب ہر سال نکالے جانے والے محرم کے روایتی جلوسوں کی طرح سری نگر میں اس سال بھی محرم کے پہلے عشرے کے دوران مقامی شیعہ مسلمانوں نے جلوس عزا برآمد کرنے کی کوشش کی لیکن بھارتی فوج نے عزادار کو جلوس کی صورت میں شہر میں نکلنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا، جس کے بعد بھارتی فوج اور عزاداروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں، ان جھڑپوں کے دوران شرکاء نے بھارتی سکیورٹی دستوں پر پتھراؤ بھی کیا جبکہ فوجی سکیورٹی اہلکاروں نے مشتعل عزاداروں کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنوں کے علاوہ آنسو گیس بھی استعمال کی، ایک مقامی حکومتی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ یہ جھڑپیں ہفتے کو رات گئے تک جاری رہیں، اس دوران بھارتی سکیورٹی دستے مسلسل آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کے علاوہ پیلٹ گنوں سے فائرنگ بھی کرتے رہے، روئٹرز نے اس سلسلے میں تازہ صورت حال اور حکومتی موقف جاننے کیلئے نئی دہلی میں ملکی وزارت داخلہ کی ایک خاتون ترجمان سے رابطے کی کوشش کی لیکن دوسری طرف سے کوئی جواب نہ دیا گیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply