ریاض میں یمن کیلئے بنائے گئے وزیراعظم اور کابینہ پر عدن پہنچنے پر حملہ

0

خبررساں ادارے کے مطابق جیسے ہی نو تشکیل شدہ نام نہاد یمنی حکومت کے ارکان طیارے سے باہر نکلے دھماکے ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی ایئرپورٹ پر بھگدڑ مچ گئی اور سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی دارالحکومت ریاض میں نو تشکیل شدہ حکومت کے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کے طیارے پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے، عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حملہ اُس وقت ہوا جب سعودی عرب کا ایک خصوصی طیارہ ریاض سے عدن ائیرپورٹ پہنچا، جس میں یمن کیلئے سعودی عرب میں بنائی گئی نام نہاد حکومت کے وزیراعظم اور اُسکی کابینہ کے ارکان سوار تھے، عدن ایئرپورٹ کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا ریاض پہنچنے والی اطلاعات کے مطابق عدن ائیرپورٹ پر مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جبکہ ایمبولنسز میں زخمی کو لے جاتے ہوئے دیکھا گیا، جیسے ہی نو تشکیل شدہ نام نہاد یمنی حکومت کے ارکان طیارے سے باہر نکلے، یکے بعد دیگرے دھماکے ہونا شروع ہوگئے اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، ایئرپورٹ پر بھگدڑ مچ گئی اور سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا، ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کے درمیان 30 سے زائد افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا ہے جہاں 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے، سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کے حمایت یافتہ نامزد وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، واضح رہے کہ 18 دسمبر کو سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت کیساتھ یمن کے مختلف گروہوں پر مشتمل اتحادی حکومت قائم کی ہے جبکہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں یمن کی ایک مستقل حکومت قائم ہے، جسے حوثیوں سمیت عرب قبائل کی بھرپور حمایت حاصل ہے سنہ 2015ء میں سعودی اتحاد نے یمن پر یکطرفہ طور پر حملہ کردیا تاہم پانچ سال سے زائد گزر جانے کے باوجود سعودی اتحاد یمن کی قانونی حکومت کو ختم کرنے میں ناکام رہا حالانکہ سعودی اتحاد کو امریکہ اور اسرائیل سمیت بعض یورپی ملکوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply