روس نے آواز سے27 گنا تیز ہائپرسونک میزائل نصب کرنا شروع کردیا

0

روسی وزارت دفاع کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر پوٹن کو بتایا کہ آواز کی رفتار سے بھی 27 گنا زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرنیوالے اس میزائل کی تیاری پر ماسکو نے گزشتہ کئی برسوں سے جاری تجرباتی کام اب مکمل ہوگیا ہے۔۔۔

ماسکو (میزان نیوز) روس نے اپنی طرز کا ایسا پہلا بین البراعظمی ہائپر سونک میزائل تیار کرلیا ہے، جو آواز کی رفتار سے بھی ستائیس گنا تیز رفتاری سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، صدر پوٹن کے مطابق یہ غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل میزائل ہے، روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے مطابق اس نئے میزائل کے تجرباتی مرحلے کے دوران یہ ثابت ہو گیا کہ ماسکو کا یہ جدید ترین ہتھیار اب تک دستیاب سبھی میزائل دفاعی نظاموں کو قطعی طور پر غیر مؤثر بنا دے گا، اس بارے میں روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگُو نے صدر پوٹن کو بتایا کہ یہ بین البراعظمی میزائل ایک ایسا ہائپر سونک ہتھیار ہے، جو جمعہ ستائیس دسمبر سے باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوگیا ہے، روسی وزارت دفاع کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سیرگئی شوئیگُو نے صدر پوٹن کو بتایا کہ آواز کی رفتار سے بھی 27 گنا زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرنے والے اس میزائل کی تیاری پر ماسکو کی طرف سے گزشتہ کئی برسوں سے جاری تجرباتی کام اب مکمل ہوگیا ہے اور اب یہ میزائل کہیں بھی نصب کیا جا سکتا ہے، روسی حکام کے مطابق اس میزائل نے اپنے طویل تجرباتی مراحل کے دوران کئی مرتبہ 33 ہزار کلومیٹر (ساڑھے 20 ہزار میل) فی گھنٹہ تک کی رفتار سے سفر کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نیا روسی میزائل آواز کی رفتار سے تقریباﹰ 27 گنا زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرسکتا ہے، آواز 1,234.8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، ماہرین کے مطابق اس میزائل کے ذریعے روسی حکام نے اپنے ملک کے کسی ہتھیار کے انتہائی تیز رفتار ہونے کا بظاہر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، تاہم اس سے کم رفتار میزائل تو پہلے ہی سے روس اور امریکا کے پاس موجود ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ آواز ایک گھنٹے میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے، اسے  ایک ماخ کہا جاتا ہے، ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تو روس اور امریکا کے پاس پہلے سے موجود ہیں، جو ہائپر سونک ہیں اور 20 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بظاہر پہلا موقع ہے کہ روس نے کوئی ایسا بین البراعظمی میزائل تیار کیا ہے، جو ماخ 27 تک کی رفتار سے سفر کرتا ہوا اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے، دوسرے لفظوں میں 33 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے کسی بھی دوسرے براعظم میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکنے والا یہ میزائل واقعی اپنی طرز کا انتہائی جدید ترین اور منفرد ہتھیار ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply