ذاکر نائیک کو متنازعہ بیان دینا مہنگا پڑا ملائیشیا سے نکالے جانیکا امکان

0

سعودی عرب کی مالی تعاون سے ذاکرنائیک دنیا بھر میں مذہبی منافرت اور مسلم مسالک کے درمیان فرقہ واریت کو پھیلا رہے ہیں انہیں دہشت گردی پر اکسانے کے مقدمات کے باعث انڈیا چھوڑنا پڑا تھا اور اُنکی جائیدادیں بھی ضبط کرلی گئی تھیں۔۔۔

کوالا لمپور (میزان نیوز) بھارت سے فرار ہونے کے بعد ملائیشیا میں مستقل سکونت حاصل کرنے والے متنازعہ اور متشدد اور دہشت گردی کی ترغیب دینے والے مذہبی رہنما ذاکر نائیک کے ملائیشیا میں دیئے گئے متنازع بیان کے بعد ان کی ملک بدری پر غور کیا جا رہا ہے، بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا میں حال ہی میں اقلیتوں سے متعلق اپنے متنازع بیان کے باعث مشکلات میں گھرے عالمی شہرت یافتہ مذہبی اسکالر ذاکر نائیک کی ملک بدری کے بارے میں ممکنہ طور پر سوچا جا رہا ہے، ملائیشیا کے وزیر داخلہ محی الدین یاسین نے اپنے بیان میں کہا کہ مذہبی اسکالرذاکر نائیک سے ملک کے ہندو اقلیتوں سے متعلق متنازع بیان کے بارے میں پولیس پوچھ گچھ کرے گی، اس بیان سے اقلیتوں کی دل آزاری بھی ہوئی، دوسری جانب بھارت سے ملائیشیا منتقل ہونے اور شہریت حاصل کرنے والے مذہبی اسکالر ذاکر نائیک نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا وہ اقلیتوں کا دل سے احترام کرتے ہیں، ادھر سنگاپور کے اخبار اسٹریٹ ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ متنازع بیان کے بعد ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ذاکر نائیک کو ملک بدر کرنے اور شہریت ختم کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے ہوگیا ہے، یاد رہے کہ ذاکر نائیک نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ملائیشیا میں آباد قدیم ہندو برادری اب بھی ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے زیادہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حمایت اور عزت کرتی ہے، واضح رہے کہ بھارت میں ہزاروں ہندوؤں کو اسلام میں داخل کرنے کا دعویٰ کرنے والے شدت پسند مذہبی رہنما ذاکر نائیک کو دہشت گردی پر اکسانے کے مقدمات کے باعث ملک چھوڑنا پڑا تھا اور اُن کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی گئی تھیں، ذاکر نائیک  سعودی عرب میں کچھ عرصے قیام کے بعد ملائیشیا پہنچے جہاں پچھلی حکومت نے انہیں مستقل سکونت دے دی تھی، سعودی عرب میں قیام کے دوران سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ذاکر نائیک سے ملاقات کی تھی اور انہیں سعودی عرب کی اعزازی شہریت بھی دی تھی، یاد رہے کہ سعودی عرب کی مالی تعاون کیساتھ ذاکرنائیک دنیا بھر میں مذہبی منافرت اور مسلم مسالک کے درمیان فرقہ واریت کو پھیلا رہے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply