خلیج فارس میں اسرائیلی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ایران

0

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے خلیج فارس میں امریکی اتحاد کے قیام کی کوششوں کو اشتعال انگیز اور فریب کارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران ایسے کسی اتحاد کے قیام کے بارے میں اپنی کھلی مخالفت کا اعلان کرتا ہے۔۔۔۔

تہران (میزان نیوز) اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے خلیج فارس میں کسی بھی خود ساختہ فوجی اتحاد میں ناجائز اسرائیلی ریاست کی ممکنہ موجودگی کو ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل کی علاقے میں موجودگی سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنا ایران کا جائز قانونی حق ہے، اُنھوں نے کہا کہ ایران خلیج فارس میں اسرائیل کی کسی حیثیت میں موجودگی کو برداشت نہیں کرئے گا، ایرانی ترجمان سید عباس موسوی نے خود ساختہ امریکی سمندری اتحاد میں اسرائیل کی ممکنہ شمولیت سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی اقدام کے خطرناک نتائج کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور غاصب اسرائیلی ریاست پر عائد ہوگی، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خلیج فارس میں امریکی اتحاد کے قیام کی کوششوں کو اشتعال انگیز اور فریب کارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی اتحاد کے قیام کے بارے میں اپنی کھلی مخالفت کا اعلان کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ساری دنیا پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ایران خلیج فارس کا اہم ملک ہی نہیں بلکہ اس علاقے کی پندرہ سو میل طویل ساحلی پٹی کا مالک بھی ہے اور اپنی تاریخی ذمہ داریوں کے تناظر میں خلیج فارس کو اپنی قلمرو کا حصّہ سمجھتا ہے اور اس علاقے میں جہاز رانی کی سلامتی حمل و نقل کی آزادی کا واحد نگہبان ہے، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خلیج فارس میں کسی بھی نام اور کسی بھی عنوان کے تحت بیرونی طاقتوں کی موجودگی سے اس علاقے کی سلامتی کو تقویت نہیں ملے گی بلکہ خلیج فارس کے حساس علاقے میں کشیدگی اور بحرانوں کے راستہ ہموار ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ عمان میں تیل سپلائی کو یقینی بنانے پر خلیج فارس کے علاقے کے ممالک سے آنے والے آئل ٹینکروں کے تحفظ کے بہانے سمندری اتحاد کے قیام کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس پر دنیا کے بہت سے ملکوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جاپان، کینیڈا اور جرمنی سمیت بہت سے ممالک خلیج فارس میں جہازرانی کی سلامتی کے نام پر قائم کیے جانے والے کسی بھی امریکی اتحاد میں شمولیت سے پہلے ہی انکار کرچکے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply