جے یو آئی میں فضل الرحمٰن سےسینئر ہوں وہ کرپشن میں ملوث ہیں

0

حافظ حسین احمد کے مطابق پارٹی نے مولانا فضل الرحمان پر یہ واضح بھی کیا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف فوج میں بغاوت کروانا ہماری پارٹی کا بیانیہ اور پالیسی نہیں مگر وہ اس راہ پر چل پڑے۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ کے سربراہ فضل الرحمٰن سے سینئر رکن حافظ حسین احمد کے مطابق جے یو آئی(ف) کے اندر کافی عرصے سے اختلافات چل رہے تھے اور سب سے بڑا اختلاف پارٹی سے ایف کو نکالنے پر ہوا، ان کے مطابق ایف کا مطلب سوائے ذاتی فائدے کے اور کچھ نہیں، ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور وقت کے ساتھ ساتھ فوائد بڑھتے چلے گئے، حافظ حسین احمد کے مطابق پارٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم صدر پاکستان کیلئے انتخاب نہیں لڑیں گے مگر جب نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے صدارت کا امیدوار بننے کیلئے کہا تو وہ دوڑ کر کھڑے ہوگئے، بات صرف یہیں نہیں رکی بلکہ انھوں نے اپنے بیٹے مفتی اسعد محمود کو خود ہی قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار بھی نامزد کردیا، حافظ حسین احمد نے فضل الرحمٰن پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے، ان کے مطابق پارٹی نے مولانا فضل الرحمان پر یہ واضح بھی کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف فوج میں بغاوت کروانا ہماری پارٹی کا بیانیہ اور پالیسی نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ اس راہ پر چل پڑے، حافظ حسین احمد کے مطابق پارٹی کے فیصلوں کو بھی جب نظر انداز کیا گیا اور ان پر عمل نہ ہوا تو پھر ہم نے اختلافی آواز اٹھانا شروع کردی، انھوں نے کہا کہ اب ہم پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ہمیں شاید کہیں سے اشارے مل رہے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ سال آزادی مارچ سے اٹھ کر چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ پنڈی میں ایک اہم شخصیت سے ملنے کون گیا تھا اور پھر مارچ تک حکومت گرانے کی یقین دہانی پر آزادی مارچ کے خاتمے کا اعلان کس نے کیا تھا، حافظ حسین احمد کے مطابق اس ملاقات کی تصدیق خود پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کی ہے مگر اس اہم ملاقات سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کسی نے پارٹی کو اعتماد میں لیا، واضح رہے کہ حافظ حسین احمد طویل عرصے تک پارلیمنٹ میں جے یو آئی کی آواز بنے رہے۔ وہ 1988ء کے انتخابات کے بعد چار بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، حافظ حسین احمد کے مطابق وہ جے یو آئی کے سنہ 1973ء میں رکن بنے جب اس پارٹی کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کے ہاتھوں میں تھی۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی پارٹی میں شمولیت 1980ء میں ہوئی۔

Share.

About Author

Leave A Reply