جو محکمے عوامی مسائل حل کرسکتے ہیں، وہ کے ایم سی کے پاس نہیں

0

کراچی سے کے الیکٹرک اربوں ڈالر کما رہا ہے اور اسی رقم سے ملک کا قرضہ بھی ادا کیا گیا میئر کراچی وسیم اختر بااختیار نہیں تو وہ اپنا منصب چھوڑ دیں کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات پر کے الیکٹرک کے انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے۔۔۔

کراچی (میزان نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی کے میئر وسیم اختر سے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس اختیار نہیں ہیں تو وہ اپنا منصب چھوڑ دیں، عدالت کا کہنا تھا کہ شہر میں جاری لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات پر بجلی فراہم کرنے والی نجی کمپنی کے الیکٹرک کے چیف آپریٹنگ افسر سمیت ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ شہر میں سرکلر ریلوے، غیر قانونی بل بورڈز، تجاویزات سمیت کراچی کو درپیش دیگر معاملات کی سماعت کررہا ہے، دورانِ سماعت شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ بھی زیرِ بحث آگیا اور چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ کہاں ہیں کے الیکڑک کے سربراہان؟ انھوں نے سی ای او کے الیکڑک کو طلب کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ شہر میں گھنٹوں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ جاری ہے اور بجلی کی ترسیل کا نظام برباد ہوچکا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی سے کے الیکٹرک اربوں ڈالر کما رہا ہے اور اسی رقم سے ملک کا قرضہ بھی ادا کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت مافیا کے خلاف کارروائی نہیں کرتی اگر ان کے خلاف کارروائی کرے گی تو اس کا دانہ پانی بند ہو جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آٹھ دس لوگ کرنٹ لگنے سے مرجاتے ہیں، کے الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے، پوری انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے، میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ جو محکمے عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں، وہ کے ایم سی کے پاس ہیں ہی نہیں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کریں اور سارے اختیارات اور وسائل اس کے حوالے کریں، سماعت کے وقفے کے بعد کے الیکٹرک کے چیف آپریٹنگ افسر مونس عبداللہ علوی عدالت میں پیش ہوئے لیکن یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا، اس مقدمے کی اگلی سماعت کل ہوگی، چیف جسٹس ننے تمام سائن بورڈ اور بل بورڈز کو فوری ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply