جنوبی یمن میں سعودی اور اماراتی مفادات کی جنگ سےعوام پریشان

0

سعودی عرب نے پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے جنوبی عبوری کونسل کی حمایت کرنے پر تنقید بنایا عدن میں یو اے ای سے وابستہ جنوبی عبوری کونسل اور منصور ہادی کے مسلح جنگجؤوں کے درمیان یکم اگست سے جھڑپیں جاری ہیں۔۔۔

دبئی (میزان نیوز) یمن کے تاریخی شہر عدن پر متحدہ عرب امارات کے فوجیوں قبضے کے دوران یمن کے سابق صدر منصور الہادی کے حمایت یافتہ مسلح جنگجؤوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں جبکہ اس علاقے میں عوام پریشان ہیں اور غزائی قلت کا سامنا کررہے ہیں، الخلیج آنلائن ویب سائٹ نے سنیچر کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ چونکہ سعودی حکومت یمن کے مفرور و مستعفی صدر منصور ہادی سے وابستہ مسلح جنگجؤوں کی مالی اور عسکری مدد کر رہی ہے اس لئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے منصور ہادی کے حمایت یافتہ مسلح جنگجؤوں کے خلاف مسلح کارروائیوں سے یہ واضح ہے کہ یمن کے معاملے پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مفادات میں تضاد پایا جاتا ہے، عدن میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے علیحدگی پسندوں کی حمایت کے بعد سعودی عرب نے اپنے پہلے سرکاری بیان میں بالواسطہ طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے جنوبی عبوری کونسل کے فوجیوں کی حمایت کئے جانے کو ہدف تنقید بنایا اور اماراتی حمایت یافتہ مسلح گروہوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عدن میں حکومت کے سول اور فوجی دفاتر سمیت چھاؤنیوں کو منصور ہادی سے وابستہ فوجیوں کے حوالے کردیں، عدن میں متحدہ عرب امارات سے وابستہ جنوبی عبوری کونسل اور منصور ہادی کے مسلح جنگجؤوں کے درمیان یکم اگست سے جھڑپیں جاری ہیں، جس میں ابتک دونوں جانب سے 96 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہیں، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ میں یمن پر حملے کے بعد یمن کے ایک ایک حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اپنے مقامی اور غیر ملکی ایجنٹوں اور کرائے کے فوجیوں کو یمنی فوج اور عوام کے خلاف جارحیتوں اور حملے کیلئے استعمال کرتے ہیں، یاد رہے کہ سعودی اتحاد نے امریکہ اور اسرائیلی حمایت سے یمن پر 2015ء میں حملہ کیا اُس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ ممالک سے جنکی فوجوں نے یمن پر فضائی حملے کرکے جنوبی یمن پر قبضہ کرلیا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply