ایرانی جنرل کا قتل، انٹرپول صدر ٹرمپ کے ریڈ وارنٹ جاری کرئے

0

ایران نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرے جن پر قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے ایران، ڈونلڈ ٹرمپ کا دور صدارت ختم ہونے بعد بھی معاملے کی پیروی جاری رکھے گا۔۔۔

تہران (میزان نیوز) ایران نے اپنے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 35 دیگر افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انٹرپول سے مدد طلب کرلی، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کی رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ تہران کے پراسیکیوٹر علی القاسم ہنر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر افراد کے خلاف وارنٹ قتل اور دہشت گردی کی کارروائی کے چارجز پر جاری کیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایران نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرے جن پر قاسم سلیمانی کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دیگر افراد میں امریکی ملٹری اور سول افسران شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں، علی القاسم نے کہا کہ ایران، ڈونلڈ ٹرمپ کا دور صدارت ختم ہونے کے بعد بھی معاملے کی پیروی جاری رکھے گا، یاد رہے کہ رواں سال 3 جنوری کو عراق میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ سردار قاسم سلیمانی شہید ہوگئے تھے، امریکا کی جانب سے یہ الزام لگایا تھا کہ قاسم سلیمانی خطے میں امریکی فورسز پر حملوں میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاز کے ماسٹر مائنڈ ہیں، قاسم سلیمانی کے امریکی فضائی حملے میں قتل کے بعد دونوں ممالک امریکا اور ایران میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی تھی، قاسم سلیمانی کے شہادت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قاسم سلیمانی کو ظالم طاقتوں کے خلاف مزاحمت کا عالمی چہرہ قرار دیا تھا، اسی روز امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بہت پہلے ہی قتل کر دینا چاہیئے تھا، بعد ازاں ایران کی جانب سے اس حملے کا جواب دیا گیا تھا، امریکا کی عراقی ایئربیس پر حملہ کیا تھا جہاں امریکی فوجی مقیم تھے۔

Share.

About Author

Leave A Reply