جنرل سلیمانیؒ خلاف امریکی حملہ پاکستان کا بیان غلامانہ ذہنیت کا عکاس

0

پاکستان کو ابتک تو امریکی دوستی سے کچھ نہیں ملا مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اُمیدیں اب بھی امریکہ سے ہی وابستہ ہیں جبکہ پاکستانی لوگ امریکہ مخالف نہیں امریکہ کے دشمن ہیں جس نے اس ملک کو تباہی کی دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے دفتر خارجہ میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو خوفذدہ اور غلامانہ ذہنیت کے حامل ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکہ مخالف تحریک چلائی اور افغانستان کیلئے جانت والے اسلحے کو روکا مگر عمران خان نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد وزارت خارجہ کا قلمدان شاہ محمود قریشی کو دیا جن کے بزرگوں کے انگریزوں سے قریبی تعلقات تھے، اُن کی ذہنیت غلامانہ افکار پر استوار ہے وہ آنے سے پہلے جانے کے راستے پر نظر رکھتے ہیں، جنرل قاسم سلیمانیؒ کے قتل پر امریکہ کی مذمت کرنے کے بجائے ایران کو پُر سکون رہنے کی تلقین کررہے ہیں، ویسے پاکستان کو ابتک تو امریکی دوستی سے کچھ نہیں ملا مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اُمیدیں اب بھی امریکہ سے ہی وابستہ ہیں جبکہ پاکستانی لوگ امریکہ مخالف نہیں امریکہ کے دشمن ہیں جس نے اس ملک کو تباہی کی دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے، پاکستان کے بعض تجزیہ نگاروں نے اس صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، پاکستان کو واضح طور پر امریکہ کی مذمت کرنی چاہیئے کیونکہ امریکہ کی جانب سے ایران کے جنرل کو قتل کرنا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہی نہیں اسلامی مزاحمت کے خلاف سازش کا حصّہ ہے، یقینی طور پر پاکستان جس صورتحال سے گزر رہا وہ سنگین ہے مگر ہمیں امریکی محبت میں زخم ملے ہیں اور اس بات کا یقین رکھنا چاہیئے کہ امریکی محبت پاکستان کو مزید نقصان پہنچائے گی، ہمیں بنگلہ دیش کا زخم تازہ رکھنا ہوگا، یہ زخم ہمیں امریکہ نے لگایا تھا ورنہ بھارتی فوج میں جرات نہیں ہوتی کہ وہ ڈھاکہ میں داخل ہوتا، پاکستانی سیاستدانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ہوا کا رخ امریکہ مخالف ہے، امریکہ کا عالمی کردار محدود ہورہا ہے، ہمارے وزیراعظم کو اللہ پر توکل کرنا چاہیئے، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ صرف تقریر سے پہلے تلاوت کرنے سے نہیں اس قرانی پیغام کو حلق سے نیچے اُتار کر دل میں جگہ دینا ہوگی۔

Share.

About Author

Leave A Reply