جرمنی کا مشرق وسطیٰ میں زیادہ مداخلت کرنیکی امریکی درخواست مسترد

0

جرمن وزیرخارجہ کے مطابق اگر عراقی پارلیمنٹ اپنے ملک سے جرمن فوجیوں کے انخلا کے حق میں ووٹ دیا تو ہم عراقی پارلیمنٹ اور حکومت کے احکامات کی پابندی کریں گے ہم امریکی اتحادی ہیں مگر ہر ناجائز معاملے میں حمایت نہیں کرینگے۔۔

برلن (میزان نیوز) جرمنی کے وزیر خارجہ نے مغربی ایشیا (مشرق وسطیٰ) میں نیٹو کے زیادہ سے زیادہ کردار اور خطے میں زیادہ مداخلت کی امریکی صدر کی درخواست کو مشترد کردی ہے، جرمن وزیرخارجہ ہایکو ماس نے این ٹی وی نیوز چینل سے اپنی گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں نیٹو کے زیادہ فعال کردار کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ نظریہ درست نہیں ہے، نیٹو کو اسکا نقصان ہوگا، جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہیئے کہ وہ مغربی ایشیا میں آزادانہ کردار ادا کرے، جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ اگر عراقی پارلیمنٹ اپنے ملک سے جرمن فوجیوں کے انخلا کے حق میں ووٹ دیتی ہے تو ہم عراقی پارلیمنٹ اور حکومت کے احکامات کی پابندی کریں گے، امریکی صدر ٹرمپ اور نیٹو کے یورپی ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران نیٹو کے بجٹ کے معاملے پر کشیدگی کافی حد تک بڑھ گئی ہے، اُدھر جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کانگ کیونگ نے سنیچر کو ملک کے اراکین پارلیمنٹ سے گفتگو میں کہا کہ جنوبی کوریا امریکا کا اتحادی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ہر معاملے میں امریکا کا ساتھ دیں گے، انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز بھی ان معاملات میں ہے جن میں ہم امریکا کا ساتھ نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بعض سیاسی مسائل بالخصوص مغربی ایشیا کے مسئلے میں سیئول اور واشنگٹن کے نظریات ایک نہیں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ایران سے جنوبی کوریا کے روابط ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور اب بھی ہماری کوشش ہے کہ یہ روابط اسی طرح باقی رہیں۔جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز بہت ہی اہم اور حساس علاقہ ہے جہاں دنیا کا ایک بٹا چھے تیل پیدا ہوتا ہے، جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے یہ بیان سیئول میں امریکی سفیر ہیری ہیریس کے اس بیان کے جواب میں دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امید ہے ک مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے کے بعد جنوبی کوریا اپنے فوجیوں کو آبنائے ہرمز کے لئے روانہ کرے گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply