زائرین کو تفتان سےشہروں میں لانا،لیگی رہنما کا بیان الزام تراشی ہے

0

قومی اسمبلی میں ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کے مطابق کورونا وائرس کے باعث چین سے طلبا نہیں لائے گئے لیکن تفتان کے راستے لوگوں کا سیلاب آرہا ہے زلفی بخاری نے زائرین کو تفتان سے پاکستانی شہروں میں آنیکی اجازت دی۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تفتان بارڈر کے ذریعے کسی کو پاکستان آنے کی اجازت دینے کے عمل میں اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا، خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے زائرین کو تفتان سے پاکستان کے مختلف حصّوں میں آنے کی اجازت دی، اب یہ قافلے کہاں ہیں اور کن شہروں میں ہیں کچھ معلوم نہیں، زلفی بخاری نے اپنے بیان میں اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یا پاکستان تحریک انصاف کے کسی اور رہنما نے تفتان بارڈر کے ذریعے کسی کو پاکستان آنے کی اجازت دینے کے عمل میں اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے کبھی تفتان سے زائرین کو روکنے یا بھیجنے کے بارے میں بات نہیں ہوئی ہے، وفاقی حکومت نے کسی صوبائی ادارے کو اس معاملے میں متاثر نہیں کیا اور تفتان بارڈر سے نقل و حرکت وفاق کی ذمہ داری نہیں، زلفی بخاری نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کے الزامات بالکل بے بنیاد اور پروپیگنڈہ پر مبنی ہیں، کررونا ایک عالمی وبا ہے اور ہمیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے اکٹھے ہوکر لڑنے کی ضرورت ہے، قبل ازیں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث چین سے طلبا نہیں لائے گئے لیکن تفتان کے راستے لوگوں کا سیلاب آرہا ہے، گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے تفتان میں قائم قرنطینہ سینٹر سے سیکڑوں افراد کو کلیئر قرار دےکرگھروں کو روانہ کردیا گیاتھا تاہم اب پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں تفتان قرنطینہ سینٹر سے کلیئر ہوکر آنے والے زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 236 ہوگئی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply