آذربائیجان میں ترک فوج تعینات کرنے کا اہم فیصلہ پارلیمنٹ کرئیگی

0

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ سینٹر کو ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کیلئے ڈرون اور دیگر تیکنیکی حوالے سے استعمال کیا جائیگا نگرانی کے عمل میں ترک فوج کا اثر و رسوخ محدود ہوگا اور وہ نیگورنو-کاراباخ نہیں جائیں گے۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) ترک حکومت نے آذربائیجان میں آرمینیا سے متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں معاہدے کے بعد قائم ہونے والے امن کی نگرانی کیلئے اپنی فوج کی تعیناتی کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترک سرکاری خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ حکومت نے فوجی تعینات کرنے کا معاملہ منظوری کیلئے پارلیمنٹ بھیج دیا ہے، خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے روس کی سربراہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کی حکومتوں نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت نیگورنو-کاراباخ میں روس اور ترک افواج نگرانی کریں گی جبکہ آرمینیائی افراد متنازع خطہ چھوڑ دیں گے، روس اور ترک وزرائے دفاع نے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور اس میں طے پایا تھا کہ آذربائیجان میں مشترکہ طور پر نگرانی کیلئے ایک سینٹر قائم کیا جائے گا، ترک حکومت نے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ہے، جس میں درخواست کی گئی کہ ترک امن فوج کو ایک سال کیلئے بھیجنے کی منظوری دی جائے اور فوجیوں کی تعداد صدر رجب طیب اردوان طے کریں گے، پارلیمنٹ میں اس بل پر آنے والے دنوں میں بحث ہوگی اور کہا جارہا ہے کہ فوج کے ساتھ ساتھ سول انتظامی عہدیدار بھی امن مشن کا حصہ ہوں گے، اناطولو خبر ایجنسی نے بل کے متن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ترک مسلح افواج کے اہلکاروں کو روس اور ترکی کے جوائنٹ سینٹر کے قیام میں حصہ لینا ہوگا جو خطے کے عوام کیلئے امن اور فلاح میں معاون ہوگا اور یہ قدم قومی مفاد کے تحت ضروری ہے، ادھر روس کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی سرزمین میں نگرانی کے عمل میں ترک اہلکاروں کا اثر و رسوخ بہت محدود ہوگا اور وہ نیگورنو-کاراباخ نہیں جائیں گے، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ سینٹر کو ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کیلئے ڈرون اور دیگر تیکنیکی حوالے سے استعمال کیا جائے گا، روس، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کا ضامن ہے اور اسکی 2 ہزار فوجیوں کو نگرانی کی غرض سے پانچ برس تک تعینات کرے گا، واضح رہے کہ نیگورنو-کاراباخ عالمی سطح پر آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے لیکن 1994 میں جنگ کے بعد آرمینیا نے اس پر قبضہکر لیا تھا، جنگ بندی معاہدے کے بعد آرمینیا میں وزیراعظم نیکول پاشینیان کے خلاف شدید احتجاج ہوا تھا اور مظاہرین ان کو غدار قرار دیتے ہوئے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply