ترک فوجیوں کی ہلاکت بعد عراقی کردوں پر حملےترکی جواب کا منتظررہے

0

عراق کے کمزور سرکاری موقف کیوجہ سے عراق کو ترک جارحیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ترک حکومت اور فوج شمال میں عراقی کردوں کے خلاف فوجی آپریشن سے پہلے اس کے جواب کے بارے میں ضرور سوچیں اور اپنے اندازوں پر نظرثانی کریں۔۔۔

بغداد (میزان نیوز) عراق کی سیاسی اور مزاحمتی تحریکوں نے شمالی عراق میں ترکی کے جارحانہ حملوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کے جارحانہ اقدامات کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی، عراق کی النجبا تحریک نے اعلان کیا ہے کہ شمالی عراق پر ترکی کی فوجی کارروائی پر اگر بغداد کی حکومت خاموش رہتی ہے تو وہ خود میدان عمل میں آجائے گی اور ترکی کے خلاف جوابی حملے کرئے گی، عراق کی النجبا تحریک نے ایک بیان میں شمالی عراق میں ترکی کی فوجی کارروائی پر عراق کے وزیراعظم مصطفی الکاظمی کی حکومت کے کمزور ردعمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے کمزور سرکاری موقف کی بنا پر عراق کو ترک جارحیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور عراق کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، النجبا تحریک نے ترکی کی حکومت اور فوج کو خبردار کیا کہ وہ شمال میں عراقی کردوں کے خلاف فوجی آپریشن سے پہلے اس کے جواب کے بارے میں ضرور سوچیں اور اپنے اندازوں پر نظرثانی کریں، ترک فوج نے گزشتہ ہفتے بدھ کو عراقی کردستان کے شمال میں واقع گارا کے علاقے میں فوجی کارروائی کی تھی، عراق کی حکومت اور عراقی کردستان کی جانب سے اب تک ترک فوج جارحانہ کارروائی پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا گیا ہے، عراق کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی ترک فوج کی کارروائی کے مسئلے کو بین الاقوامی اداروں میں لے جانے کے ساتھ ترکی کے اس قسم کے اقدامات پر سخت نوٹس لینے کا اعلان کیا ہے، دوسری جانب عراق کے الفتح الائنس کے سربراہ ہادی العامری نے بھی کہا ہے کہ رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ترک فوج، عراق کے شمال مغربی صوبے نینوا کے علاقے سنجار کی پہاڑیوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے، انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی حکومت کے اس منصوبے کے بارے میں مصدقہ رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جبکہ ترکی کی حکومت اور فوج کو ایسے کسی بھی منصوبے پر عمل کرنے سے باز رہنا ہوگا

Share.

About Author

Leave A Reply