ـ ترکی کو لیبیا میں تمام سنگین جرائم کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی، فرانس

0

لیبیا سے واپس آنیوالے شامی جنگجوؤں مطابق سرت اور تیل کے وسائل والے علاقوں میں ترکی بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے اگر لیبیا کے تیل پر ترک فوج کا کنٹرول ہوگیا تو باغی رہنما خلفیہ حفتر کو مغربی ملک یا سعودی عرب میں پناہ حاصل کرنا پڑے گی۔۔۔

پیرس (میزان نیوز) فرانسیسی صدر اومانویل ماکروں نے کہا ہے کہ لیبیا کے مسئلے میں مداخلت کرنے والی سب سے بڑی طاقت ترکی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ لیبیا کی سرزمین پر جو کچھ ہورہا ہے اور عام لوگ مارے جارہے ہیں، اس کا ذمہ دار ترکی ہے، ترکی کو لیبیا میں سنگین جرائم کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی، فرانسیسی صدر نے جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انقرہ کو لیبیا میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرنی چاہیئے، ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو لیبیا میں اجرتی جنگجو بھیجنا حال اور مستقبل میں پڑوسی ممالک اور یورپ کیلئے متعدد خطرات کا باعث ہے، خیال رہے کہ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمٰن نے کہا ہے کہ لیبیا میں شامی جنگجوؤں کی تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے، انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا سے واپس آنے والے کچھ جنگجوؤں نے بتایا کہ سرت اور تیل کے وسائل والے علاقوں میں ترکی ایک بڑے آپریشن کی تیاری کررہا ہے، رامی عبد الرحمٰن نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ کچھ اجرتی جنگجو چھٹیوں پر لیبیا سے شام لوٹے تھے، ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت ترکی کی زیرقیادت فوجی آپریشن کیلئے تیار ہے، واپس آنے والے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ ترکی لیبیا میں تیل کے وسائل سے مالا مال علاقوں میں اپنی فوج داخل کرنے کی تیاری کررہا ہے، جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی لیبیا میں تیل کے وسائل کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو لیبیا کی قومی حکومت کے ساتھ مالی مدد کے وعدے پورے کیے جائیں گے، واضح رہے کہ ترکی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی حکومت کی دعوت پر خلیفہ حفتر کے جنگجوؤں کے خلاف قومی فوج کی مدد کررہا ہے جبکہ سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت مغربی ملکوں اتحاد جنگجوؤں کی مالی اور فوجی مدد کررہا ہے، خلفیہ حفتر کو ترکی کی مداخلت کے بعد پےدر پے ناکامیوں کا سامنا ہے اور اگر لیبیا کے تیل پر ترک فوج کا کنٹرول ہوگیا تو خلفیہ حفتر کو کسی مغربی ملک یا سعودی عرب میں پناہ حاصل کرنا پڑے گی۔

Share.

About Author

Leave A Reply