شام سےامریکی فوج کا انخلا ترکی کرد ملیشیا کا قتل عام نہیں کرئیگا،پومپیو

0

ترک امریکا تعلقات کرد ملیشیا کو امریکی فوجی تعاون سے ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں ترکی کرد باغیوں کو دہشت گرد تصور کرتا ہے جو ترکی کے سرحدی علاقے میں کرد خود مختاری کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد انقرہ شام میں کرد ملیشیا کا قتل عام نہیں کرے گا، رجب طیب اردوان نے اس بیان پر کہا کہ ترکی کردوں کو نشانہ بناتا ہے یہ ناگوار ترین، ناقابل یقین الزام ہے، امریکی ترجمان نے انقرہ میں مشیر قومی سلامتی کی ملاقات سے متعلق ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ جون بولٹن نے فوجی انخلا سے متعلق ابراہیم کیلن سے بات چیت کی ہے، گیریٹ مارکیوس نے لکھا کہ انہوں نے شمال مشرقی شام سے مناسب وقت پر انخلا کے فیصلے پر تبادلہ خیال کیا اور دیگر مسائل کی نشاندہی بھی کی، خیال رہے کہ جب 19 دسمبر کو امریکی صدر نے 2 ہزار فوجیوں کے دستوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا تب انقرہ واحد نیٹو اتحادی تھا جس نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا، ترک صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وعدہ کیا تھا کہ ترکی، شام میں داعش کا مکمل خاتمہ کرسکتا ہے، انہوں نے نیو یارک ٹائمز میں شام سے قبل از وقت فوجی انخلا کے اعلان سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گرد گروہ کے خلاف ایک فوجی فتح صرف پہلا قدم ہے، گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ داعش کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، انہوں نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ہم شام سے مناسب وقت پر واپس جائیں گے جبکہ اسی دوران داعش کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری اقدامات بھی کریں گے، نیو امریکن سکیورٹی کے تجزیہ کار نکوہلس ہیراس کا کہنا تھا کہ داعش کے مکمل خاتمے کیلئے انقرہ کو واشنگٹن کے تعاون کی ضرورت ہوگی اس وجہ سے شام میں امریکی فوج کا موجود ہونا ضروری ہے، خیال رہے کہ امریکا شام میں کرد ملیشیا کردش پیپلز فیڈریشن یونٹس کا پشت پناہ ہے، تاہم ترک امریکا تعلقات وائے پی جی کو امریکی فوجی تعاون کے حوالے سے ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، واضح رہے کہ ترکی، کرد باغیوں کو دہشت گرد تصور کرتا ہے جس کی ایک شاخ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) بھی ہے، جو ترکی کے سرحدی علاقے میں کرد خود مختاری کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں، ترک صدر کے حالیہ بیان سے وائے پی جی کے مستقبل سے متعلق عدم اتفاق کو ظاہر کیا ہے، ترک صدر نے دہشت گردی کی نئی تعریف سامنے لانے پر واشنگٹن کی سرزنش کی۔

Share.

About Author

Leave A Reply