ترکی اپنی حدود سے بڑھا تو اسکی معیشت کو تباہ کردیں گے، ٹرمپ

0

ترکی داعش کے جنگجو کے ذمہ داری بھی اٹھائےگا جنھیں گذشتہ دو برسوں سے حراست میں رکھا گیا ہے ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوج کو نکالنے کے فیصلے کو کرد عسکریت پسندؤں کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ترکی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا تو وہ اس کی معیشت کو تباہ کر دیں گے، انھوں نے یہ بیان شمال مشرقی شام سے امریکی فوجوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد دیا ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھے جانے والے پیغامات میں صدر ٹرمپ نے اپنی فوجوں کو واپس نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ترکی کیلئے کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا راستہ کھل سکے گا، خیال رہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے فیصلے پر بہت تنقید کی جارہی ہے اور اس میں صدر ٹرمپ کے حامی ریپلکنز بھی شامل ہیں، کرد فوجیں شام میں اہم امریکی اتحادی تھیں، صدر ٹرمپ کی جانب سے اچانک کیے جانے والے اس فیصلے کو کردوں کے مرکزی گروہ نے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے جو کہ پینٹاگون اور محکمہ خارجہ کے سینئر افسران کی رائے کے خلاف ہے، تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوجوں کا انخلا اور کرد فوجوں کو چھوڑنا ترکی کی جانب سے ان پر حملے خطے میں اسرائیل کی پوزیشن کمزور کرئے گی کیونکہ ترکی کرد فوجوں کو اسرائیل کا حامی سمجھتا ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے ترکی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کا فائدہ نہ اٹھائے، انھوں نے کہا ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو تباہ کر سکتے ہیں اور مٹا سکتے ہیں، امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں مستقبل قریب میں ترکی کی عسکری کارروائی میں رکاوٹ نہیں بنے گا جبکہ روس نے ترکی سے شام کی علاقائی سالمیت کے احترام کا مطالبہ کیا ہے، امریکہ کی جانب سے یہ اعلان اتوار کی شام وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا جو امریکی صدر ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے درمیان ایک کال کے بعد جاری کیا گیا ہے، ترک صدر اردوغان کئی ماہ سے شمالی شام میں موجود کرد فورسز کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کی دھمکی دے رہے تھے، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی داعش کے ان جنگجو کے ذمہ داری بھی اٹھائے گا جنھیں گذشتہ دو برسوں سے حراست میں رکھا گیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply