ترقی پذیر ممالک میں کرپشن کرنیوالوں کے اثاثے واپس کئے جائیں

0

اقوام متحدہ کے ایک پینل نے حال میں جاری رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرنے والے غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کے اوپر حکومتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منافع کی آف شور منتقلی پر سالانہ ٹیکس محصول میں 600 ارب ڈالر تک حاصل کرتی ہیں۔۔۔

نیویارک (میزان نیوز) پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ترقی پذیر ممالک سے کرپشن کرکے بیرون ملک بنائے اثاثے ان ملکوں کو مکمل طور پر واپس کردیئے جائیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک بنیادی قانونی فورم کی کمیٹی کے سامنے اپنے ایک بیان میں پاکستان نے ٹیکس سے بچنے کیلئے منافع کی منتقلی جیسے غیر قانونی طریقوں سے نمٹنے کیلئے لازمی فریم ورک کا مطالبہ کیا، پاکستان کے نمائندے سعد احمد وڑائچ نے کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ رشوت، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ سمیت بدعنوانیوں سے چوری شدہ دولت کے اعداد و شمار بہت زیادہ، تقریباً 26 کھرب ڈالر سالانہ ہیں، اقوام متحدہ کے ایک پینل نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو تباہ کرنے والے غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کے اوپر حکومتیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منافع کی آف شور منتقلی پر سالانہ ٹیکس محصول میں 600 ارب ڈالر تک حاصل کرتی ہیں، گزشتہ ماہ تیار ہونے والی اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سرحد پار منی لانڈرنگ ہر سال کم از کم 16 کھرب ڈالر یا عالمی جی ڈی پی کا 2.7 فیصد ہوتی ہے، اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح پینل برائے بین الاقوامی مالیاتی احتساب، شفافیت اور دیانتداری (ایف اے سی ٹی آئی) کو مارچ میں رکن ممالک کو پائیدار ترقی کے حصول میں مدد کے مقصد کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا، پینل نے معلوم کیا کہ نجی دولت میں کم از کم 70 کھرب ڈالر جو دنیا کی جی ڈی پی کا 10 فیصد ہے، کو بیرون ممالک آف شور کیا گیا، اس نے ٹیکسز، بدعنوانی اور مالی جرائم سے نمٹنے کیلئے عالمی ڈھانچے میں بڑے فرق اور نظامی دشواریوں کی بھی نشاندہی کی، اس رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بین الاقوامی مالیاتی کنٹرول نے تیزی سے ڈیجیٹائزڈ عالمی معیشت کے ساتھ تسلسل برقرار نہیں رکھا ہے اور حکومتیں اس مسئلے کے حل کے بارے میں متفق نہیں ہوسکی ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply