بھارت کا کشمیر میں لاک ڈاؤن دوران پنچائیت انتخابات کرانیکا اعلان

0

ریاست کے نمایاں سیاستدان دو ماہ سے حکومتی حراست میں ہیں اور ریاست میں انٹرنیٹ، موبائل ٹیلیفون اور مواصلات کے دوسرے ذرائع پر پابندیاں عائد ہے اپوزیشن رہنماؤں نے ان انتخابات کو جعل سازی اور جمہوریت کیساتھ مذاق قرار دیا ہے۔۔۔

نئی دہلی/سرینگر (میزان نیوز) انڈیا کے زیرِ قبضہ کشمیر میں ایسے وقت جب سیاستدانوں کی بڑی تعداد زیرحراست ہے اور ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے، مقامی انتخابات کی تیاریاں کی جارہی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے یہ ریاست میں پہلی انتخابی سرگرمی ہوگی، پہلے مرحلے میں 24 اکتوبر کو دیہی علاقوں کے 310 بلاکس میں پنچائیت کونسل کے انتخابات کی تیاری کی جا رہی ہے، ووٹوں کی گنتی انتخابات کے روز ہی ہوگی، ریاست کے تقریباً تمام نمایاں سیاستدان دو ماہ سے حکومتی حراست میں ہیں اور پوری ریاست میں انٹرنیٹ، موبائل ٹیلیفون اور مواصلات کے دوسرے ذرائع پر پابندیاں عائد ہیں، حزب اختلاف کے رہنماؤں نے ان انتخابات کو جعل سازی اور جمہوریت کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے، حزب اختلاف کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ ریاست میں سیاسی خلاء کی وجہ سے کشمیریوں کا انڈیا سے اعتماد اٹھ جائے گا، کشمیر کے گورنر ستیاپال ملک کے مشیر فاروق خان کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ تمام کشمیری رہنماؤں کو ایک ایک کرکے رہا کردیا جائے گا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ سیاستدانوں کی رہائی میں مزید کتنا وقت لگے گا، جو سیاستدان گھروں میں نظر بند ہیں ان میں سابق وزائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ ہند نواز سیاستدان سجاد لون، شاہ فیصل اور کئی دیگر سابق ممبران اسمبلی شامل ہیں، انتظامیہ نے جموں کے علاقے میں سیاستدانوں کی نظر بندی کو ختم کردیا ہے، جموں میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا انڈیا میں عمومی طور پر خیرمقدم کیا گیا ہے لیکن کشمیر کے مسلم اکثریت والے علاقے میں حالات جہاں عشروں سے مزاحمتی تحریک جاری ہے، اب بھی کشیدہ ہیں اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج بھی ہوا ہے، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مواصلات کی مکمل بندش ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون کے کنکشن اگست سے معطل ہیں، سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے کارکنوں سے رابطہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے، کئی سیاسی کارکن گھروں سے غائب ہیں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر بند پڑے ہیں، کانگریس پارٹی کے رویندر شرما کا کہنا ہے ہم اپنے امیدواروں کا انتخاب کیسے کریں گے جب ہم ان سے رابطہ تک نہیں کرسکتے، کانگریس پارٹی نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، رویندر شرما کہتے ہیں کہ انھیں پریس کانفرنس کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply