ـ بھارت کا نیپال میں عدم استحکام کیلئے وزیراعظم کو ہٹانے کا منصوبہ

0

نیپال اور بھارت درمیان سرحدی تنازع گزشتہ چند ماہ سے چل رہا ہے جبکہ بھارت نے لیپولیکھ پہاڑیاں، کالاپانی اور لیمپیادھورا کے علاقوں کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کے نیپالی اقدام پر عتراض کیا تھا بھارت لیپولیکھ راہداری پر دعویٰ کرتا ہے۔۔۔

کھٹمنڈو (میزان نیوز) نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے بھارت پر الزام عائد کردیا ہے کہ انہیں ہٹانے کیلئے سیاسی حریف کے ساتھ مل کر سازش کی جارہی ہے، بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق کے پی شرما اولی نے ایک سرکاری تقریب کے دوران کہا کہ مجھے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوں گے، اسکرول ان کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ میں خفیہ چلنے والی تحریک کو جان چکا ہوں، سفارت خانوں اور ہوٹلوں میں مختلف قسم کی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر آپ نئی دہلی کے میڈیا کو سن رہے ہیں تو آپ کو اس کا اشارہ مل جائے گا، نیپالی وزیراعظم کا بیان پارلیمنٹ کی جانب سے لیپولیکھ پہاڑیوں، کالاپانی اور لیمیادھورا کو نیپالی نقشے میں شامل کرنے کی منظوری کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، نقشے میں شامل یہ علاقے بھارت اور نیپال کے درمیان سرحدی تنازع کی بنیادی وجہ ہیں، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نیپال کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ سب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ نیپالی قوم کمزور نہیں ہے کہ بیرونی فورسز اس کو الٹ دیں گی، ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے نقشے کو تبدیل کرچکے ہیں اور اگر ملک کے وزیراعظم کو ہٹا دیا جاتا ہے تو وہ نیپال کیلئے ناقابل فہم ہوگا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور کمیونسٹ پارٹی کے ایگزیکٹو چیئرپرسن پشپا کمال داہل پراچندا کے درمیان پارٹی کی قیادت پر اختلافات پیدا ہوئے تھے، دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بھی سامنے آئے تھے جہاں اولی کو پارٹی کے دو اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ گزشتہ اجلاس میں انہوں نے مختصر شرکت کی تھی، نیپال اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع گزشتہ چند ماہ سے چل رہا ہے جبکہ بھارت نے لیپولیکھ پہاڑیاں، کالاپانی اور لیمپیادھورا کے علاقوں کو اپنے نقشے میں شامل کرنے کے نیپال کے اقدام پر عتراض کیا تھا، دوسری جانب نیپال کا مؤقف ہے کہ مسلسل اعتراضات کے باوجود بھارت دارچولا- لیپولیکھ راہداری پر دعویٰ کرتا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply