بھارت میں معاشی خطرات، کورونا بحران کی نسبت زیادہ سنگین ہے

0

ماہر اقتصادیات خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں قابل ذکر بحالی کیلئے طویل سفر طے کرنا پڑے گا حکومت کے پاس بھی وسائل ناکافی ہیں بھارتی معیشت کو 2019 کی سطح پر واپس آنے کا امکان نہیں ہے۔۔۔

بھارت کو کرونا وائرس اور ہمالیالی خطے میں چین کے ساتھ سرحدی فوجی تنازع کی وجہ سے اس سال اقتصادی اور سکیورٹی معاملات میں کئی عشروں کے سخت ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سال مارچ میں بھارت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب مہلک وائرس ملک میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور متاثرین کی تعداد چند ہزار تک محدود تھی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہروں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کو اپنی بستیوں میں واپس جانا پڑا، بے شمار کاروبار اور کارخانے بند ہوئے جن میں سے اکثر ابھی تک اپنی سرگرمیوں کی طرف لوٹ نہیں سکے ہیں، ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود بھارت میں عالمی وبا کا حملہ شدید ترین رہا، سال کے آخر میں بھارت میں موذی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ جب کہ اموات ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا شمار امریکہ کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے متاثرہ ملک کے طور پر کیا جا رہا ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت میں ہزاروں چھوٹے کاروبار بند ہوگئے ہیں اور لاکھوں افراد اپنے روزگار سے محروم ہوچکے ہیں، موجودہ حالات میں بھارت کے معاشی خطرات، کورونا بحران کی نسبت کہیں زیادہ سنگین ہیں، نئی دہلی کے ایک تجریہ کار ارون کمار کہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی آپ نے یہ منظر نہیں دیکھا ہو گا کہ لاکھوں افراد خالی پیٹ اور خالی جیب کے ساتھ شہروں میں اپنا روزگار چھوڑ کر اپنی بستیوں میں جانے پر مجبور ہوئے، ارون نے یہ بات اپریل میں بڑے پیمانے پر شہروں سے مزوروں اور کارکنوں کے انخلا کے حوالے سے کہی، ماہر اقتصادیات کمار خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں قابل ذکر بحالی کیلئے طویل سفر طے کرنا پڑے گا، ان کا کہنا ہے کہ روزگار کی حالت پتلی ہے، سرمایہ کاری کی حالت بھی پتلی ہے۔ صارفین میں اعتماد کی کمی ہے اور حکومت کے پاس بھی وسائل ناکافی ہیں، اس صورت حال کے پیش نظر 2021 میں معیشت 2019 کی سطح پر واپس آنے کا امکان نہیں ہے، وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے اب تک کے چھ سالہ اقتدار میں کئی بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ہمالیائی خطے میں چین کے ساتھ فوجی تناؤ، شہریت کے مسئلے پر مسلمانوں کے احتجاج اور اب زرعی اصلاحات کے بعد کسانوں کے بڑے پیمانے پر مظاہرے شامل ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply