بھارتی فوج نے کشمیر میں جعلی مقابلوں میں ہلاکتوں کا اعتراف کر لیا

0

بھارتی فوج کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آپریشن میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990 سے تجاوز کیا گیا اس خصوصی قانون کے تحت فوج کو جموں و کشمیر میں چلائی جارہی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔۔۔

نئی دہلی (میزان نیوز) بھارت کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جولائی میں کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کے جو تین نوجوان اچانک لاپتہ ہوئے تھے انہیں بھارتی سپاہیوں نے ضلع شوپیاں میں ایک جعلی آپریشن کے دوران ہلاک کردیا تھا، یہ تینوں نوجوان مزدوری کیلئے 17 جولائی کو راجوری سے شوپیاں پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا اور اسی شام اپنے گھر والوں کو فون پر مطلع کیا تھا کہ انہیں ایک مقامی باغ میں کام مل گیا ہے، جسے وہ اگلے روز شروع کررہے ہیں، اس کے بعد ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، ان کے اہل خانہ نے پولیس اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ کشمیر میں چوںکہ فون اور دوسری مواصلاتی سروسز اکثر بند ہو جاتی ہیں، اس لئے ان کے عزیز ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے، بھارت کی فوج نے 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ نامی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران تین کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دیکر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اس حوالے سے پولیس حکام نے بتایا تھا کہ ہلاک کیے گئے دہشت گردوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے اور ان کی لاشیں وصول کرنے کیلئے بھی کوئی سامنے نہیں آیا تو انہیں بارہ مولا کے اس قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں عمومی طور پر کشمیر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مبینہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو دفن کیا جاتا ہے، پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ تدفین سے پہلے ہلاک شدگان کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے، جب راجوری کے لاپتہ نوجوانوں محمد امتیاز، ابرار احمد خان اور ابرار یوسف کے رشتے داروں کیلئے انتظار طویل ہونے لگا اور ان تک شوپیاں میں غیر شناخت شدہ مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیے جانے کی خبر پہنچی تو ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی، انہوں نے مقامی پولیس تھانے جا کر ان نوجوانوں کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ درج کرائی اور اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ قبر کشائی کرکے جعلی مقابلے میں ہلاک کیے گئے افراد کی شناخت کی جائے، حکام نے ان کا یہ مطالبہ تو نہیں مانا البتہ پولیس اور فوجی حکام نے معاملے کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا، اس سلسلے میں پولیس نے اگست کے وسط میں لاپتہ نوجوانوں کے قریبی رشتے داروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے تھے، تاہم اس کے بعد مزید کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی، بعد ازں لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے جموں و کشمیر کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کو خط ارسال کیا جس میں یہ شکایت کی گئی کہ فوج اور پولیس تحقیقات کو بلاوجہ طول دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں جان بوجھ کر غیر سنجیدگی اور کوتاہی کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آپریشن میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990 سے تجاوز کیا گیا، اس خصوصی قانون کے تحت فوج کو جموں و کشمیر میں آزادی کیلئے چلائی جارہی مسلح جدوجہد کو دبانے کیلئے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں، بھارتی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ فوج کے وضع کردہ طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی کی گئی جس کی پاداش میں اس آپریشن میں شامل افسران اور سپاہیوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی، بھارت کی فوج کا کہنا ہے کہ ابھی ڈی این اے نمونوں کی رپورٹ آنے کا انتظار ہے، بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی فوج ضابطوں کی پابند ہے اور شوپیان امشی پورہ واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔ گزشتہ ماہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ اور ‘ہیومن رائٹس واچ’ نے بھارت کی فوج اور کشمیر کی پولیس کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا تھا کہ یہ کام آزاد سویلین اتھارٹیز کو سونپا جانا چاہیے۔ ان کا استدلال تھا کہ سویلین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کسی حد تک شفافیت اور غیر جانب داری کا مظہر ہوتی ہیں۔ فوج کے نظامِ انصاف میں غیر جانب داری نظر نہیں آتی۔ انہوں نے خط میں فوج اور پولیس کے رویے کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا تھا۔ لاپتا نوجوانوں کے والدین نے لیفٹننٹ گورنر سے معاملے میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی تھی۔ لیفٹننٹ گورنر سنہا نے گزشتہ دنوں سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے استفسار پر یقین دلایا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ضرور انصاف ملے۔ جب کہ جمعرات کو کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ ڈی این اے رپورٹس کے ملاپ کے نتائج کو بہت جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔ جمعے کو بھارت کی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جھڑپ سے متعلق شروع کی گئی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply