بھارتی زیر قبضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنیکا مذموم منصوبہ ہے؟

0

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق بھارت نے پلوامہ واقعہ کے بعد گرفتار کیے گئے تمام کشمیری رہنماؤں کو باقاعدہ الزام عائد کیے بغیر اب تک حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان گرفتاریوں کا مقصد غیر مسلح آزادی کی تحریک کو کمزور بنانا ہے۔۔۔۔

نئی دہلی (میزان نیوز) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھارتی آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دینا اپنے انتخابی منشور میں بھی شامل کر رکھا تھا، مودی حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے، جس کے بعد بھارتی شہری کشمیر میں جائیدادیں خرید سکیں گے، بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور خطے میں معاشی بہتری بھی آئے گی، آزادی پسند کشمیری جماعتوں کے علاوہ بھارت نواز سمجھے جانے والے کشمیری رہنما بھی ایسے کسی بھی ممکنہ اقدام کی مخالفت کررہے ہیں، اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے نئی دہلی کے تازہ اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ ہمیں واضح طور پر معلوم نہیں کہ یہ (اقدامات) کس بارے میں ہیں لیکن یقینی طور پر یہ ایک ایسے فیصلے سے متعلق ہیں، جس کے سکیورٹی کے حوالے سے دور رس نتائج سامنے آئیں گے، نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کشمیری علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا آرٹیکل 35 اے کو ختم کر کے ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت کو بدل دینے کی کوششیں کرنے سمیت کئی افواہیں اس وقت گردش کر رہی ہیں، ماضی کی طرح اب بھی عوام اور رہنماؤں کو ایسے اقدامات کے خلاف مزاحمت کیلئے تیار رہنا ہو گا، کشمیری شہریوں کے خدشات اور موجودہ غیر یقینی صورت حال کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے بھارت نواز کشمیری رہنما عمر عبداللہ نے اپنے ایک پیغام میں لکھا میرے کئی سوالات ہیں لیکن جواب ایک بھی نہیں، آج میری کشمیر سے متعلق اہم عہدوں پر فائز کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی اور ان میں سے کوئی بھی کچھ بھی نہیں بتا پایا اور میں چھ سال تک کشمیر کا وزیر اعلیٰ رہا ہوں تو عام کشمیریوں کے مصائب کے بارے میں سوچیے، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس بات پر یقین کریں، رواں برس فروری کے مہینے میں پلوامہ میں حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی انتہائی بڑھ گئی تھی، بھارتی سکیورٹی حکام نے اس کے بعد سے کم از کم ڈھائی سو کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار کر لیا تھا، روئٹرز کے مطابق بھارت نے گرفتار کیے گئے ان تمام کشمیری رہنماؤں کو ان کے خلاف کوئی بھی باقاعدہ الزام عائد کیے بغیر اب تک حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان گرفتاریوں کا مقصد غیر مسلح علیحدگی پسند تحریک کو کمزور بنانا ہے، نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ نئی دہلی حکام بھارت میں موجود غیر ملکی سفیروں پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سے نہ ملیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply