بنگلہ دیش میں انتخابات اقوام متحدہ نے آزادانہ تحقیقات مطالبہ کر دیا

0

عوامی لیگ کی حامی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے پارلیمان کی 90 فیصد سے زائد سیٹیں جیت لی ہیں اپوزیشن اتحاد کا الزام  کہ یہ کامیابی انتخابی دھاندلی، بے قاعدگیوں اور تشدد کے نتیجے میں حاصل کی گئی ۔۔۔۔۔

نیویارک (میزان نیوز) اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش میں تیس دسمبر کو ہوئے قومی انتخابات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے، اس الیکشن کے نتیجے میں عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کو مسلسل تیسری بار وزیر اعظم بننے کا موقع مل گیا تھا، بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا سے ہفتہ پانچ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ نے جنوبی ایشیا کی اس ریاست میں گزشتہ ماہ کے اواخر میں مکمل کیے گئے انتخابی عمل کی غیر جانبدارانہ چھان بین کا مطالبہ ملکی اپوزیشن اتحاد کے ان الزامات کی روشنی میں کیا ہے کہ اس الیکشن میں دانستہ تشدد کیا گیا تھا اور کئی انتخابی حلقوں میں وسیع تر دھاندلی بھی کی گئی تھی، گزشتہ اتوار کے روز ہونے والے ان انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ اور اس کی حامی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے پارلیمان کی 90 فیصد سے زائد سیٹیں جیت لی تھیں، ملکی اپوزیشن اتحاد کا الزام ہے کہ یہ کامیابی انتخابی دھاندلی، بے قاعدگیوں اور اس تشدد کے نتیجے میں حاصل کی گئی تھی، جس نے کم از کم بھی 19 افراد کی جان لے لی تھی، سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یا بی این پی ان انتخابی نتائج کو سرے سے مسترد کر چکی ہے جبکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کی گئی تھی اور انتخابی عمل شفاف اور پرامن تھا، اس تناظر میں اقوام متحدہ کی طرف سے اب کہا گیا ہے، ہم حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل کے دوران دھاندلی، تشدد کے واقعات اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی مکمل طور پر فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جن کے باعث کئی انسانوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور جن کے ذمے دار افراد کو ان کی سیاسی وابستگیوں سے بالکل قطع نظر قانونی طور پر جواب دہ بنایا جانا چاہیئے، حالیہ ملکی انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی نئی بنگلہ دیشی پارلیمان کا اولین اجلاس جمعرات تین جنوری کو ڈھاکا میں ہوا تھا، جس میں شیخ حسینہ سمیت ان کی پارٹی کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد کے تمام نو منتخب ارکان نے حصہ لیا تھا۔ اپوزیشن کے سبھی نو منتخب ارکان، جن کی تعداد صرف سات ہے، اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply