بلاول، فضل الرحمن سے بلیک میل نہ ہوں، فیصلے خود کریں، پی پی

0

نواز لیگ کو اپنے موقف پر لاکر اپنے فیصلوں کو منوانا چاہیئے اور پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں حکومت کی ناراض اتحادی جماعتوں کیساتھ ملا کر عدم اعتماد کی تحاریک لانی چاہیئے اور تاکہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوں۔۔۔

لاہور (میزان نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے گزشتہ روز اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری پر واضح کردیا کہ وہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بجائے اپنے فیصلے خود کریں، مولانا فضل الرحمن کی پارلیمنٹ میں پوزیشن نہ ہونے کے برابر ہے اسلئے ان کے کہنے پر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی بجائے ضمنی الیکشن بھی لڑے جائیں اور سینیٹ کے الیکشن میں بھی بھرپور حصہ لیا جائے کیونکہ سینیٹ ایک مستقل ادارہ ہے، سینیٹ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی سیاسی غلطی نہ کی جائے، پیپلز پارٹی کے ذرائع نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء نے بینظیر شہید کی برسی میں شرکت نہ کرنے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں بطور پی ڈی ایم سربراہ کے برسی کی تقریب میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا مگر وہ نہ آئے، ذرائع نے مزید بتایا کہ بلاول سے کہا گیا کہ ماضی میں صدر کے الیکشن کے وقت مولانا فضل الرحمن سے کہا گیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو منائیں کہ اعتزاز احسن کو اپوزیشن کا متفقہ صدارتی امیدوار نامزد کیا جائے مگر وہ (ن)لیگ کو منانے کی بجائے خود انکے امیدوار بن کر سامنے آگئے، ذرائع کے مطابق بلاول سے سی ای سی کے شرکاء نے کہا کہ ماضی میں مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری کو دھوکا دے چکے ہیں اس لئے ہمیں اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے اور کیونکہ پارلیمنٹ میں بڑی نمائندگی پیپلزپارٹی کے پاس ہے اور دوسرے نمبر پر بڑی نمائندگی مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے اس لئے ہمیں جے یو آئی(ف) کی باتوں میں آکر دفاعی پوزیشن لینے کی بجائے (ن)لیگ کو اپنے موقف پر لاکر اپنے فیصلوں کو منوانا چاہیئے اور پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں حکومت کی ناراض اتحادی جماعتوں کیساتھ ملا کر عدم اعتماد کی تحاریک لانی چاہیئے اور تاکہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوں، اس کے بعد احتجاج کے دوسرے راستوں یعنی لانگ مارچ اور پھر اس کے بعد سب سے آخری استعفوں کا اعلان کرنا چاہیئے، تاہم اس دوران ہمیں حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کو موثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیئے۔

Share.

About Author

Leave A Reply