امریکی سفاتخانے پر راکٹ حملے، ایران نے ٹرمپ کا الزام مسترد کردیا

0

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صدر ٹرمپ کو اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں خطرناک مہم جوئی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکی حکومت کو کسی بھی غیر دانشمندانہ کارروائی کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔۔۔

تہران/واشنگٹن (میزان نیوز) عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حالیہ راکٹ حملے سے متعلق تہران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کو ایران نے مسترد کردیا ہے، اتوار کی رات کم از کم تین کٹیشو راکٹ بغداد میں انتہائی مضبوط قلعہ گرین زون کے اندر امریکی سفارتی مشن کے قریب گرے جبکہ ایک راکٹ کو سفارتخانے کے دفاع کیلئے نصب اینٹی راکٹ نظام کے ذریعے راستہ موڑ دیا تھا، اس حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر کچھ عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچا، بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے کہا کہ عراق میں امریکیوں پر مہلک حملے کی صورت میں وہ ایران کو ذمہ دار قرار دیں گے، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹویٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے الزام تراشی کا مقصد ملک میں ملنے والی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا تھا، ظریف نے کہا کہ بیرون ملک اپنے شہریوں کو خطرہ میں ڈالنے سے ملک میں ہونے والی تباہ کن ناکامیوں سے توجہ ہٹ نہیں جائے گی، ظریف نے اپنی ٹویٹ میں 2011 اور 2013 کے درمیان ٹرمپ کے اپنے بیان کو منسلک کیا، جس میں ٹرمپ نے ڈیموکریٹ صدر بارک اوباما پر الزام لگایا تھا کہ وہ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی کوشش کررہا ہے، انھوں نے کہا کہ گزشتہ ایک صدی میں امریکیوں کا اتنا بڑا جانی نقصان نہیں ہوا جو ٹرمپ کے دور میں کورونا وائرس سے ہوا ہے اور یہ نقصان ٹرمپ کے غلط اور بے بنیاد خیالات کی وجہ سے ہوا ہے، واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اگر عراق میں ایک بھی امریکی مارا گیا تو میں اسکا ذمہ دار ایران کو ٹھیراؤں گا، جمعرات کے روز ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے صدر ٹرمپ کو اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں کسی بھی خطرناک مہم جوئی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی حکومت کو کسی بھی غیر دانشمندانہ کارروائی کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply