بحرینی بادشاہ کی قبلہ اوّل سےغداری اسرائیل سےتعلقات پر راضی ہوگیا

0

بحرین کی شیعہ اکثریت اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بحالی کے شاہی فیصلے کے خلاف ہیں جبکہ عوامی نمائندہ سیاسی جماعت الوفاق نے اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے محدود اختیارات کی حامل بحرینی پارلیمنٹ میں اسرائیلی پرچم نذرآتش کیا گیا تھا۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی ریاست بحرین اور اسرائیل نے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے پر آمادگی ظاہر کردی ہے، انھوں نے ٹویٹ کیا کہ 30 دن میں دوسرے عرب ملک نے اسرائیل کے ساتھ امن قائم کیا ہے، دہائیوں تک عرب مملک اسرائیل کا بائیکاٹ کرتے رہے ہیں اور اس بات پر اسرار کرتے رہے ہیں کہ وہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے پر ہی اسرائیل سے تعلقات قائم کرسکتے ہیں لیکن گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیلئے حامی بھری تھی جس کے بعد وہ خلیجی ممالک میں ایسا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات قائم کیا ہو، اس کے بعد سے ہی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ بحرین بھی ایسا کرنے والا ہے، صدر ٹرمپ نے ان دونوں معاہدوں کیلئے ثالث کا کردار ادا کیا ہے، سنہ 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد بحرین وہ چوتھا عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے پہلے اس فہرست میں مصر اور اردن شامل تھے، صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پر امریکہ، بحرین اور اسرائیل کے مشترکہ بیان کی کاپی بھی شیئر کی ہے، واضح رہے کہ بحرین کی اسمبلی میں اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بحالی کے عمل کی شروعات پر احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل کا پرچم نذر آتش کیا گیا تھا، یاد رہے کہ بحرین کی شیعہ اکثریت اسرائیل کیساتھ تعلقات کی بحالی کے شاہی فیصلے کے خلاف ہیں جبکہ عوامی نمائندہ سیاسی جماعت الوفاق نے بھی اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply