بحرینی بادشاہ کے جابرانہ طرز حکمرانی، اس تاریک پہلو کو دبایا جارہا ہے

0

عرب بہار کے دوران بحرین کے بادشاہ نے اپنے ملک میں مظاہروں کو بری طرح کچلا مظاہرین کا خون بہایا اس رویے نے اس بادشاہت کے کردار کو ہی تبدیل کر دیا تب سے بحرین کی سیاسی فضا اتنی ہی جابرانہ ہو گئی ہے جتنی سعودی عرب میں ہے۔۔۔

منامہ (میزان نیوز) بحرین کی بادشاہت نے ابھی حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے بارے میں مثبت سرخیاں عالمی میڈیا کی رپورٹننگ کی زینت بنیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو جلد ہی اس ملک کا دورہ بھی کرنے والے ہیں، اس نئی پیش رفت کے سبب بحرین کا تاریک پہلو پس منظر میں لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بحرین کی 90 فیصد عوام اسرائیل سے تعلقات کے حق میں نہیں ہیں، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ بحرین کا ایک تاریک پہلو بھی ہے، بحرین ایک سخت گیر پولیس ریاست ہے، 2011ء میں عرب بہار کے دوران بحرین کے بادشاہ نے اپنے ملک میں مظاہروں کو بری طرح کچلا اور مظاہرین کا خون بہایا اور اس رویئے نے اس بادشاہت کے کردار کو ہی تبدیل کر دیا، تب سے بحرین کی سیاسی فضا اتنی ہی جابرانہ ہو گئی ہے جتنی سعودی عرب میں ہے، بحرین کا تشخص کئی سالوں سے بہت خراب ہے، یہ ملک برسوں سے واشنگٹن میں لابیئنگ کرنے والوں پر بہت زیادہ رقوم خرچ کر رہا ہے تاکہ واشنگٹن میں بحرین کے بادشاہ کے خلاف فضا پیدا نہیں ہو، خلیج فارس میں اسرائیل کا نیا دوست نہ صرف غیر جمہوری ہے، بلکہ خاص طور پر جابرانہ پولیس ریاست ہے، جس میں ایک بادشاہ شیعہ اکثریت پر حکمرانی کررہی ہے، جب سے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے نو سال قبل ایک جمہوری تحریک کو خون خرابے سے دبا دیا تھا تب سے وہاں کے عوام میں ایک خوف پایا جاتا ہے، بحرین میں عرب بہار کے مظاہرین حکمران بادشاہ کو ان کا عوام سے کیا ہوا وعدہ یاد دلانا چاہتے تھے یعنی بحرین کو ایک آئینی بادشاہت بنانے کا وعدہ، بحرین کی صورتحال اُس وقت خونی شکل اختیار کرگئی، جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے اپنے فوجی بحرین کے حکمران کی مدد کیلئے روانہ کیے، ان فوجیوں نے مظاہرین کو طاقت کے زور پر کچلا اور منامہ میں مظاہروں کے گڑھ یعنی پرل اسکوائر کو منہدم کر دیا، بحرین غیر ملکی صحافیوں کیلئے اب تقریباً ایک نو گو ایریا بن چکا ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے پریس فریڈم انڈکس پر بحرین سعودی عرب سے محض ایک درجہ پہلے یعنی 169 ویں نمبر پر ہے، دوسری طرف یہ خلیجی ریاست اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں امریکی بحریہ کا پانچواں فلیٹ تعینات ہے، اس وجہ سے بحرین کا شاہی خاندان واشنگٹن کی سخت تنقید سے بچا رہا۔

Share.

About Author

Leave A Reply